المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. إن الله لا يعطي الإيمان إلا من يحب
بے شک اللہ تعالیٰ ایمان صرف اسے عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے
حدیث نمبر: 7489
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أبو بَكْرة القاضيّ، حدّثنا صفوان بن عيسى القاضيّ، أخبرنا ابن عَجلان، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ فشَكَا إليه جارَه، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ جاري يُؤذيني، فقال:"أَخرِجْ مَتاعَك فضَعْه على الطريق"، فأخرجَ متاعَه فوضعه على الطريق، فجعل كلُّ مَن مَرَّ عليه قال: ما شأنُك؟ قال: إنِّي شكوتُ جاري إلى رسول الله ﷺ، فأمَرني أن أُخْرِجَ متاعي فأضَعَه على الطريق، فجعلوا يقولون: اللهم العَنْه، اللهم أَخزِهِ، قال: فبلغ ذلك الرجلَ، فأتاه فقال: ارجِعْ، فوالله لا أُؤذيكَ أبدًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخر صحيح أيضًا على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7302 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخر صحيح أيضًا على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7302 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور اپنے پڑوسی کی شکایت کی۔ اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا پڑوسی مجھے بہت ستاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا سامان نکال کر باہر گلی میں رکھ دو، اس نے سارا سامان نکال کر راستے میں رکھ دیا، جو شخص بھی وہاں سے گزرتا، وہ (اس طرح سامان گلی میں رکھنے کی وجہ) پوچھتا، تو وہ کہتا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے پڑوسی کی شکایت کی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں گھر کا سامان نکال کر باہر رکھ دوں، تو میں نے سامان نکال کر باہر رکھ دیا ہے۔ لوگ اس (کے پڑوسی) کے بارے میں کہنے لگ گئے،” اے اللہ اس پر لعنت کر، اے اللہ اس کو رسوا کر۔ اس (پڑوسی) تک اس بات کی خبر پہنچ گئی، وہ وہاں آیا اور کہنے لگا: تم اپنا سامان واپس گھر لے جاؤ، اللہ کی قسم! میں آئندہ سے تمہیں کبھی تنگ نہیں کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک اور بھی شاہد حدیث موجود ہے وہ بھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7489]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7489 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده جيد. أبو بكرة القاضيّ: هو بكار بن قتيبة، وابن عجلان اسمه محمد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "ابو بکرہ القاضی" سے مراد بکار بن قتیبہ ہیں، اور "ابن عجلان" کا نام محمد ہے۔
وأخرجه بنحوه أبو داود (5153) من طريق سليمان بن حيان، عن محمد بن عجلان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح ابو داؤد (5153) نے سلیمان بن حیان کے طریق سے، محمد بن عجلان سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب أيضًا عن محمد بن يوسف بن عبد الله بن سَلَام مرسلًا عند ابن أبي شيبة 8/ 546، وأحمد 26/ (16408)، وابن أبي الدنيا في "مكارم الأخلاق" (326). وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں محمد بن یوسف بن عبد اللہ بن سلام سے مرسل روایت بھی ہے جو ابن ابی شیبہ (8/ 546)، احمد (26/ 16408) اور ابن ابی الدنیا کی "مکارم الاخلاق" (326) میں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند ضعیف ہے۔