المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. إن الله لا يعطي الإيمان إلا من يحب
بے شک اللہ تعالیٰ ایمان صرف اسے عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے
حدیث نمبر: 7490
أخبرَناه محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدّثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدّثنا علي بن حكيم، حدّثنا شَرِيك، عن أبي عمر الأزديّ، عن أبي جُحَيفة قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ يشكو جارَه، فقال له النبيُّ ﷺ:"اطرَحْ مَتاعَك في الطريق"، قال: فجعل الناسُ يَمُرُّون به فيَلعَنونه، فجاء إلى النبيِّ ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، ما لَقِيتُ من الناس؟! قال:"وما لَقِيتَه منهم؟" قال: يلعنونيّ، قال:"فقد لَعَنَك اللهُ قبلَ الناس" قال يا رسولَ الله، فإنِّي لا أعودُ، قال: فجاء الذي شَكَا إلى النبيِّ ﷺ، فقال له النبيُّ ﷺ:"قد أَمِنتَ" أو"قد كُفِيتَ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7303 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7303 - على شرط مسلم
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کا سامان نکال کر گلی میں رکھ دو، (اس نے ایسا ہی کیا) اب لوگ وہاں سے گزرتے اور اس (پڑوسی) پر لعنتیں بھیجتے، وہ آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگ مجھ پر لعنتیں بھیجتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انہوں نے تو بعد میں تجھ پر لعنت کی ہے،) ان سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر لعنت کی ہے، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آئندہ سے ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: جس نے شکایت کی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو امن میں ہو گیا ہے یا (شاید یہ) فرمایا کہ تو نے بھی لعنت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7490]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7490 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بهذا السياق، شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - سيئ الحفظ، وشيخه أبو عمر الأزديّ، كذا جاء هنا والمعروف أنه نخعي - وهو المنبهي - وقد تفرد بالرواية عنه شريك، ونقل ابن محرز عن ابن معين توثيقه، ونقل عنه أبو يعلى - كما في "كامل" ابن عديّ 4/ 8 - أنه لا يُعرف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: شریک - جو کہ ابن عبد اللہ النخعی ہیں - حافظے کے کچے (سییء الحفظ) ہیں، اور ان کے شیخ "ابو عمر الازدی" ہیں - یہاں (متن میں) اسی طرح آیا ہے جبکہ معروف یہ ہے کہ وہ "نخعی" ہیں اور وہ "المنبہّی" ہیں - ان سے شریک کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔ ابن محرز نے ابن معین سے ان کی توثیق نقل کی ہے، جبکہ ابو یعلیٰ نے - جیسا کہ ابن عدی کی "الکامل" (4/ 8) میں ہے - ان سے نقل کیا ہے کہ وہ "پہچانے نہیں جاتے" (مجہول ہیں)۔
وأخرجه البخاريّ في "الأدب المفرد" (125)، والبزار (4235)، والطبراني في "المعجم الكبير" (22/ 3561)، وفي "مكارم الأخلاق" (236)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (9101) من طرق عن علي بن حكيم الأزديّ، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "الادب المفرد" (125)، بزار (4235)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (22/ 3561) اور "مکارم الاخلاق" (236)، اور بیہقی نے "شعب الایمان" (9101) میں مختلف طرق سے علی بن حکیم الازدی سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔