🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. إن الله لا يعطي الإيمان إلا من يحب
بے شک اللہ تعالیٰ ایمان صرف اسے عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7491
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدّثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي يحيى مولى جَعْدة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قيل لرسول الله ﷺ: إنَّ فلانةَ تُصلِّي الليل وتصوم النهار، وفي لسانها شيءٌ يُؤذي جيرانَها؛ سَلِيطةٌ، قال:"لا خيرَ فيها، هي في النَّار"، وقيل له: إنَّ فلانة تُصلِّي المكتوبةَ، وتصومُ رمضان، وتتصدَّقُ بالأثْوار، وليس لها شيءٌ غيرُه، ولا تُؤذي أحدًا، قال:"هي في الجنَّة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7304 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت رات کو قیام کرتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے، جبکہ وہ گفتگو سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی ہے، بہت زبان دراز ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے، وہ دوزخی ہے۔ یونہی ایک دوسری عورت کے بارے میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت صرف فرض نمازیں پڑھتی ہے، صرف رمضان کے روزے رکھتی ہے اور پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے، اس کے علاوہ اس کی کوئی خاص عبادت نہیں ہے۔ اور وہ اپنی زبان سے کسی کو تکلیف نہیں دیتی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7491]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7491 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث حسن، أبو يحيى مولى جعدة لم يرو عنه غير سليمان الأعمش، وروى له مسلم متابعة، ووثقه ابن معين، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأحمد بن عبد الجبار - وإن كان فيه لين - متابع. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو یحییٰ مولیٰ جعدہ سے سلیمان الاعمش کے سوا کسی نے روایت نہیں کی، البتہ امام مسلم نے ان کی ایک روایت بطورِ متابعت لی ہے، ابن معین نے انہیں ثقہ کہا ہے اور ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ احمد بن عبد الجبار - اگرچہ ان میں کمزوری (لین) ہے - لیکن وہ "متابع" ہیں۔ سند میں "ابو معاویہ" سے مراد محمد بن خازم الضریر ہیں۔
وأخرجه أحمد (15/ 9676)، وابن حبان (5764) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، عن الأعمش، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15/ 9676) اور ابن حبان (5764) نے ابو اسامہ حماد بن اسامہ کے طریق سے، اعمش سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
📌 اہم نکتہ: اس کے بعد والی روایت ملاحظہ کریں۔
قوله: "تتصدق بالأثْوار" هي أثوار الأَقِط، كما في بعض الروايات ومنها الآتية بعدها، وهي قطع اللّبَن المستحجِر.
📝 نوٹ / توضیح: قول "تتصدق بالأثْوار": اس سے مراد "پنیر کے ٹکڑے" (اقط) ہیں، جیسا کہ بعض روایات میں ہے اور ان میں سے اگلی روایت بھی ہے، اور یہ جمے ہوئے دودھ (خشک پنیر) کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔