🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. لله عباد يغبطهم النبيون والصديقون يوم القيامة
اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جن پر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین بھی رشک کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7503
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد، أخبرني أَبي، حدَّثني الأوزاعيّ، عن ابن حَلْبس، عن أبي إدريس عائذِ الله، قال: مرَّ رجلٌ فقمتُ إليه، فقلتُ: إِنَّ هذا حدَّثني بحديثِ رسول الله ﷺ، فهل سمعته؛ يعني معاذًا؟ قال: ما كان يُحدِّثُك إلا حقًّا، فأخبرتُه، فقال: قد سمعت هذا من رسول الله ﷺ؛ يعنيّ:"المتحابِّين في الله يُظلُّهم الله في ظِلِّ عرشِه يوم لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّه"، وما هو أفضلَ منه، قلتُ: أَيْ رَحِمَك الله، وما هو أفضل منه؟ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يَأْثُر عن الله ﷿ قال:"حَقَّتْ محبَّتي للمتحابِّين فيّ، وحَقَّت محبَّتي للمتواصِلين فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتزاوِرين فيَّ، وحَقَّت محبتي للمتباذِلِين فيّ"، ولا أدري بأيَّتِهما بدأَ، قلتُ: مَن أنت رَحِمَك الله؟ قال: أنا عُبادة بن الصامت (1) . وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7315 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوادریس عائذ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی میرے قریب سے گزرا، میں اس کے لئے کھڑا ہو گیا، میں نے کہا: اس شخص نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی ہے، کیا تم نے وہ سنی ہے؟ اس نے کہا: وہ جو کچھ بھی تمہیں سناتا تھا سب حق ہوتا تھا، میں نے ان کو بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث اس سے سنی ہے (وہ حدیث یہ ہے) جو لوگ اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جب اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ دوسرا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ اور ایک حدیث اس سے بھی زیادہ فضیلت والی سنی ہے، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمت فرمائے، اس سے بھی زیادہ فضیلت والی بات کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے وہ دو آدمی میری محبت کے حقدار ہیں جو میری رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور میری محبت کے حقدار ہیں وہ لوگ جو میری رضا کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اور میری محبت کے حقدار ہیں وہ لوگ جو میری رضا کے لئے ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں، اور میری محبت کے حقدار ہیں وہ لوگ جو مجھے خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ ان جملوں میں سے کس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کا آغاز فرمایا تھا۔ میں نے پوچھا: اللہ تعالیٰ تم پر رحمت فرمائے، تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں عبادہ بن صامت ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7503]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7503 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح لكن من حديث عبادة بن الصامت فقد وهم فيه أبو حازم بن دينار فجعله من حديث معاذ، والصواب أنَّ معاذًا قد روى خبرًا آخر، يوضح ذلك ما ساقه المصنّف في الروايات التالية لهذا الحديث، على أنه قد اختُلف في سماع أبي إدريس الخولاني - وهو عائذ الله بن عبد الله - من معاذ بن جبل، قال أبو حاتم - كما في "المراسيل" لابنه: يختلفون في سماعه، وعندي لم يسمع منه، ووافقه الدارقطني في "العلل" (986)، فأسند عن أبي إدريس قوله: فاتني معاذٌ وأُخبرت عنه. وقال أبو زرعة الدمشقيّ: أبو إدريس يروي عن أبي مسلم الخولاني ويروي عن عبد الرحمن بن غَنْم الأشعريّ، وكلاهما يحدِّث بهذا الحديث عن معاذ. وأما ابن عبد البر فيرى صحةَ سماعه من معاذ لصحة الأسانيد في ذلك. انظر "تهذيب الكمال" للمزي 14/ 92.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن یہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح ثابت ہے، کیونکہ اس سند میں ابو حازم بن دینار کو وہم ہوا ہے اور انہوں نے اسے سیدنا معاذ کی حدیث بنا دیا، جبکہ درست بات یہ ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری خبر روایت کی ہے، جس کی وضاحت مصنف کی اگلی روایات سے ہوتی ہے جو وہ اس حدیث کے بعد لائے ہیں۔ اس کے علاوہ ابو ادریس خولانی (جن کا نام عائذ اللہ بن عبد اللہ ہے) کے سیدنا معاذ بن جبل سے سماع میں اختلاف ہے۔ امام ابو حاتم (جیسا کہ ان کے بیٹے کی کتاب "المراسیل" میں منقول ہے) فرماتے ہیں کہ محدثین ان کے سماع میں اختلاف کرتے ہیں اور میرے نزدیک انہوں نے معاذ سے نہیں سنا۔ امام دارقطنی نے بھی "العلل" (986) میں ان کی موافقت کی ہے اور ابو ادریس کا یہ قول سند سے نقل کیا ہے: "میری معاذ سے ملاقات رہ گئی (فوت ہو گئی) اور مجھے ان کے حوالے سے خبر دی گئی"۔ ابو زرعہ دمشقی کہتے ہیں کہ ابو ادریس، ابو مسلم خولانی سے روایت کرتے ہیں اور عبد الرحمن بن غنم اشعری سے روایت کرتے ہیں اور یہ دونوں حضرات سیدنا معاذ سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ البتہ ابن عبد البر اسناد کی صحت کی بنا پر ان کے معاذ سے سماع کو درست سمجھتے ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: دیکھیے: مزی کی "تہذیب الکمال" 14/ 92۔
وهو في "الموطأ" 2/ 953 - 954، ومن طريقه أخرجه أحمد 36/ (22030)، وابن حبان (575). وانظر تتمة تخريجه في "المسند".
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "الموطأ" 2/ 953 - 954 میں موجود ہے، اور اسی طریق سے اسے امام احمد نے 36/ (22030) اور ابن حبان نے (575) میں تخریج کیا ہے۔ اس کی بقیہ تخریج "المسند" میں ملاحظہ کریں۔
وتابع مالكًا سعيد بن عبد الرحمن الجُمحيّ، فرواه عن أبي حازم، عن محمد بن المنكدر، عن أبي إدريس، به. فزاد بين أبي حازم وأبي إدريس محمد بن المنكدر، أخرجه ابن أبي حاتم في "العلل" (1830). وتابعه أيضًا محمد بن قيس عن أبي إدريس به، لكن في الطريق إليه أبو معشر السنديّ، وهو ضعيف، أخرجه أحمد (22131).
🧩 متابعات و شواہد: امام مالک کی متابعت سعید بن عبد الرحمن الجمحی نے کی ہے، انہوں نے اسے ابو حازم سے، انہوں نے محمد بن منکدر سے اور انہوں نے ابو ادریس سے روایت کیا ہے۔ یوں انہوں نے ابو حازم اور ابو ادریس کے درمیان محمد بن منکدر کا اضافہ کیا ہے۔ اسے ابن ابی حاتم نے "العلل" (1830) میں روایت کیا۔ نیز محمد بن قیس نے بھی ابو ادریس سے اس کی متابعت کی ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن ان تک پہنچنے والی سند میں ابو معشر السندی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اسے احمد نے (22131) میں روایت کیا۔
وسلف أول الحديث عند المصنّف برقم (5258).
🧾 تفصیلِ روایت: حدیث کا ابتدائی حصہ مصنف کے ہاں نمبر (5258) پر گزر چکا ہے۔
وانظر الأحاديث بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد آنے والی احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات على خلاف في سماع أبي إدريس الخولاني من معاذ كما بيَّناه في الرواية السابقة، وأما روايته عن عبادة التي في آخر الحديث فصحيحة. ابن حلبس: هو يونس بن ميسرة الجُبلاني.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ ایسی سند ہے جس کے راوی ثقہ ہیں، البتہ ابو ادریس خولانی کے سیدنا معاذ سے سماع میں اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے پچھلی روایت میں بیان کیا۔ جہاں تک ان کی سیدنا عبادہ (بن صامت) سے روایت کا تعلق ہے جو حدیث کے آخر میں ہے تو وہ صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن حلبس سے مراد یونس بن میسرہ الجبلانی ہیں۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 37/ (22783) من طريق هقل بن زياد، عن الأوزاعي، بهذا الإسناد. لكنه أبهم اسم ابن حلبس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد نے "المسند" پر اپنی زیادات 37/ (22783) میں ہقل بن زیاد کے طریق سے، انہوں نے امام اوزاعی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے ابن حلبس کا نام مبہم رکھا ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (22064) و (22065) و (22080)، والترمذيّ (2390)، وعبد الله بن أحمد 37/ (22782)، وابن حبان (577) من طريق عطاء بن أبي رباح، عن أبي مسلم الخولانيّ، عن معاذ بن جبل. وسنده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 36/ (22064)، (22065) اور (22080)، ترمذی نے (2390)، عبد اللہ بن احمد نے 37/ (22782) اور ابن حبان نے (577) میں عطاء بن ابی رباح کے طریق سے، انہوں نے ابو مسلم خولانی سے، انہوں نے معاذ بن جبل سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه مختصرًا أحمد 36/ (22031) من طريق شهر بن حوشب، عن معاذ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 36/ (22031) میں شہر بن حوشب کے طریق سے سیدنا معاذ سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي (8501).
📝 نوٹ / توضیح: اور جو روایت نمبر (8501) پر آ رہی ہے، اسے ملاحظہ کریں۔