🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. لله عباد يغبطهم النبيون والصديقون يوم القيامة
اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جن پر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین بھی رشک کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7504
حدّثنا أحمد بن كامل القاضي، حدّثنا محمد بن سعد العَوْفيّ، حدّثنا سعيد بن عامر، حدّثنا شُعبة. أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حدّثنا محمد بن جعفر، حدّثنا شُعبة، عن يعلى بن عطاء، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن أبي إدريس الخولانيّ، قال: جلستُ مجلسًا فيه عِشرون من أصحاب محمد ﷺ، فإذا فيهم شابٌّ حسنُ الوجه، حسنُ السِّنّ، أدعج العينين، أغَرُّ الثَّنايا، فإذا اختُلفوا في شيء فقالوا قولًا، انتهَوْا إلى قوله، فإذا هو معاذُ بن جبل، فلمّا كان من الغدِ جئتُ، فإذا هو يُصلِّي عند ساريةٍ، فحَذَفَ صلاته ثم احتَبَى فسكتَ، فقلتُ: إِنِّي لأُحبُّك من جَلال الله، فقال: اللهِ؟ فقلت: الله، فقال: فإنَّ المتحابِّين في الله - قال: أحسبُ أنه قال: في ظِلِّ الله يومَ لا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّه، ثم ليس في بقيّته شك - يُوضَع لهم كراسيُّ من نور، يَغبِطُهم بمجلسِهم من الربِّ ﵎ النبيُّون والصِّدِّيقون والشهداءُ. قال: فحدَّثتُ به عُبادةَ بن الصامت فقال: لا أُحدِّثك إِلَّا ما سمعتُ على لسان رسول الله ﷺ، إنه قال:"حَقَّتْ محبّتي للمتحابِّين فيَّ، وحَفَّت محبَّتي للمتباذِلين فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتصافِينَ فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتزاوِرين فيَّ، وحَقَّتْ محبَّتي للمتواصلين فيَّ"؛ شكّ شعبةُ في المتواصلين والمتزاورين (1) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه عطاء الخُراساني عن أبي إدريس الخولانيّ:
ابوادریس خولانی فرماتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس مجلس میں بیس کے قریب اصحاب رسول موجود تھے، ان میں ایک نوجوان حسین و جمیل شخص بھی موجود تھا، جس کے دانت بھی خوبصورت اور چمکیلے تھے، آنکھیں بڑی بڑی اور کالی تھیں، سامنے کے دانت چمکدار تھے۔ جب ان لوگوں کا کسی سلسلہ میں اختلاف ہوتا یا کوئی بات کرتے تو اس کی انتہاء اسی نوجوان کی بات پر ہوتی، وہ نوجوان سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے، جب اگلا دن ہوا تو میں وہاں آیا، وہ مجھ سے بھی پہلے وہاں پر ایک ستون کے قریب محو نماز تھے، انہوں نے نماز مختصر کی، اور چادر لپیٹ کر خاموش ہو کر بیٹھ گئے، میں نے ان سے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تم سے محبت کرتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر یہ کہتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: جو لوگ اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس موقع پر یہ لفظ کہے تھے) وہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے (عرش کے) سائے میں ہوں گے جبکہ اس کے (عرش کے) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (اس کے آگے جو حدیث بیان کی ہے اس میں ان کو کوئی شک نہیں ہے وہ یہ ہے) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی، اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کو جو مقام ملے گا اس پر نبی، صدیقین اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ پھر میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں صرف وہ چیز سنا رہا ہوں جو میں نے زبان مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں، وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ میری خوشی کے لئے ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ میری رضا کے لئے ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں، وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ مجھے خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں، وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ میری رضا کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، سیدنا شعبہ کو متواصلین اور متزاورین کے الفاظ میں شک ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو عطاء خراسانی نے بھی ابوادریس خولانی سے روایت کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7504]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7504 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وهو في "مسند أحمد" 36/ (22002) من الطريق الثاني.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث "مسند احمد" 36/ (22002) میں دوسرے طریق سے موجود ہے۔
(1) حديث صحيح، رجاله ثقات غير محمد بن سعد العوفي فهو صدوق، وقد توبع، وتقدَّم ذكر الخلاف قبل حديثين في صحة سماع أبي إدريس الخولاني من معاذ، وأما سماعه من عبادة بن الصامت فصحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے محمد بن سعد العوفی کے جو کہ صدوق (سچے) ہیں اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ دو حدیثیں قبل ابو ادریس خولانی کے سیدنا معاذ سے سماع کی صحت میں اختلاف کا ذکر گزر چکا ہے، البتہ سیدنا عبادہ بن صامت سے ان کا سماع صحیح ہے۔