🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. أول ما رآه النبى من النبوة أن قيل له استتر
نبوت کی ابتدائی علامات میں سے یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا کہ خود کو ڈھانپ لیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7542
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدّثنا وهب بن جَرير وسعيد بن عامر، قالا: حدّثنا شُعبة، عن المغيرة، عن الشَّعبيّ، عن مُحرَّر بن أبي هريرة، عن أبيه قال: كنتُ مع علي بن أبي طالب حينَ بعثَه رسولُ الله ﷺ إلى أهلِ مكةَ ببراءةَ، فقيل: ما كنتم تُنادُون؟ فقال: كُنَّا نناديّ: أنه لا يدخلُ الجنَّةَ إلّا نفسٌ مؤمنة، ولا يطوفُ بالبيت عُرْيانٌ، ومن كان بينه وبينَ رسولِ الله ﷺ عهدٌ، فأجَلُه ومدّةُ عهدِه إلى أربعة أشهر، فإذا مضت الأربعةُ الأشهرِ، فإِنَّ الله بريءٌ من المشركين ورسولُه، ولا يَحُجُّ بعد العام مشركٌ، فكنتُ أنادي حتى صَحِلَ صوتي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7355 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اعلان براءت کے لیے اہل مکہ کی جانب بھیجا، اس وقت میں بھی ان کے ہمراہ تھا، ان سے پوچھا گیا: تم نے کیا اعلان کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہمارا اعلان یہ تھا: جنت میں صرف مومن شخص ہی جائے گا۔ کوئی شخص برہنہ حالت میں طواف نہیں کرے گا۔ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے وہ محدود مدت کے لیے ہے، اور اس کی مدت چار ماہ ہے۔ جب یہ مدت پوری ہو جائے گی، تو (تمام معاہدے کالعدم ہو جائیں گے اور) اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہیں۔ اس سال کے بعد کبھی کوئی مشرک حج نہیں کرے گا۔ میں یہ اعلان مسلسل کرتا رہا حتیٰ کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7542]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7542 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل المحرر بن أبي هريرة إلّا أنه وقع في روايته هنا نكارة من جهة قوله: "ومن كان بينه وبين رسول الله ﷺ عهد، فأجله ومدة عهده إلى أربعة أشهر" كما بيّناه عند الرواية السالفة برقم (3314).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے اور محرر بن ابی ہریرہ کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ ان کی روایت میں یہاں اس قول کے اعتبار سے نکارت (خرابی) واقع ہوئی ہے: "جس کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان عہد تھا، تو اس کی مدت اور عہد کی میعاد چار ماہ تک ہے"، جیسا کہ ہم نے اسے پچھلی روایت نمبر (3314) میں واضح کر دیا ہے۔