🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. حديث مناظرة ابن عباس مع الحرورية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حروریہ (خوارج) کے ساتھ مناظرے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7558
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا هشام بن سعد، عن قيس بن بِشْر التَّغْلِبي، قال: كان أبي جَليسًا لأبي الدَّرداء بدمشق، وكان بدمشقَ رجلٌ من أصحاب رسولِ الله ﷺ من الأنصار يقال له: ابن الحنظليَّة، وكان مُتوحِّدًا قلَّما يُجالِس الناسَ، إنما هو في صلاةٍ، فإذا انصرف فإنما هو تكبيرٌ وتسبيحٌ وتهليلٌ حتَّى يأتيَ أهلَه، فمرَّ بنا يومًا ونحن عند أبي الدرداءِ فسَلَّم، فقال أبو الدرداءِ: كلمةً تَنفعُنا ولا تضرُّك، فقال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّكم قادِمونَ على إخوانِكم، فأحسِنُوا لِباسَكم، وأصلِحُوا رِحالَكم، حتَّى تكونوا كأنكم شامَةٌ في الناس، إنَّ الله لا يُحِبُّ الفُحْشَ والتفحُّشَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه. وابنُ الحنظلية الذي لم يُسمِّه الراوي (2) هو سهلُ بن الحَنظَلية، من زُهّاد الصحابة رِضوان الله عليهم أجمعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7371 - صحيح
سیدنا قیس بن بشر تغلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد محترم دمشق میں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے دوست تھے، وہاں پر ایک انصاری صحابی بھی رہتے تھے، ان کو ابن الحنظلیہ کے نام سے پکارا جاتا تھا، وہ اکیلے رہنا پسند کرتے تھے، لوگوں کی مجلس میں بہت کم بیٹھتے تھے، ان کی عادت تھی کہ نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو گھر واپس جانے تک مسلسل تکبیر و تہلیل اور تسبیح میں مصروف رہتے۔ ایک مرتبہ وہ ہمارے پاس سے گزرے، ہم سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے (سلام کا جواب دینے کے بعد) فرمایا: ایک ایسی بات ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور تمہارے لیے ذرا بھی نقصان دہ نہیں ہے، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ گے، تم اپنے لباس اچھے رکھنا، اپنی سواریوں کا خیال کرنا، حتیٰ کہ تم لوگوں میں تل کی مانند ہو جاؤ، (یعنی جس طرح تل، جسم پر واضح ہوتا ہے، اسی طرح تم بھی انسانوں میں اتنے صاف ستھرے رہو کہ تم سب سے الگ تھلگ اور واضح نظر آؤ۔) بے شک اللہ تعالیٰ فحاشی کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی فحاشی پسند کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور ابن الحنظلیہ کا نام رہاوی نے ان کا نام ذکر نہیں کیا۔ ان کا نام سہل بن الحنظلیہ ہے۔ عبادت گزار صحابہ کرام میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7558]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7558 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين، بشر والد قيس التغلبي روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وهو تابعيّ كبير، وابنه قيس تفرد بالرواية عنه هشام بن سعد، وقال عنه هشام: كان رجل صدق، وقال أبو حاتم: ما أرى بحديثه بأسًا. وهشام بن سعد حديثه حسن في المتابعات والشواهد. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند حسن قرار دیے جانے کا احتمال رکھتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بشر (قیس تغلبی کے والد) سے دو راویوں نے روایت کی ہے، ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے اور وہ کبارِ تابعین میں سے ہیں۔ ان کے بیٹے قیس سے روایت کرنے میں ہشام بن سعد متفرد ہیں، اور ہشام نے ان کے بارے میں کہا: "وہ سچے آدمی (رجل صدق) تھے"، ابو حاتم نے فرمایا: "میں ان کی حدیث میں کوئی حرج نہیں سمجھتا"۔ ہشام بن سعد کی حدیث متابعات اور شواہد میں حسن ہوتی ہے۔ ابو الموِجہ سے مراد "محمد بن عمرو فزاری"، عبدان سے مراد "عبد اللہ بن عثمان مروزی" اور عبد اللہ سے مراد "ابن مبارک" ہیں۔
وأخرجه مطولًا أحمد 29/ (17622)، وأبو داود (4089) من طريق أبي عامر عبد الملك بن عمرو، عن هشام بن سعد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (29/ 17622) اور ابوداؤد (4089) نے ابو عامر عبد الملک بن عمرو کے طریق سے، انہوں نے ہشام بن سعد سے اسی سند کے ساتھ طویل طور پر روایت کیا ہے۔
ويشهد لقوله: "إنَّ الله لا يحب الفحش والتفحش" حديث عبد الله بن عمرو عند أحمد (1/ 6487)، وابن حبان (5176).
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے فرمان: "بے شک اللہ فحش گوئی اور بے ہودہ کلامی کو پسند نہیں کرتا" کی تائید (شاہد) عبد اللہ بن عمرو کی حدیث کرتی ہے جو امام احمد (1/ 6487) اور ابن حبان (5176) کے ہاں موجود ہے۔
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: الرهاوي.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الرہاوی" بن گیا ہے۔