🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. حديث مناظرة ابن عباس مع الحرورية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حروریہ (خوارج) کے ساتھ مناظرے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7559
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حَدَّثَنَا سعيد بن [أبي] أيوب، عن أبي مَرحُوم عبد الرحيم بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن (3) أنس الجُهَني، عن أبيه، عن النَّبِيِّ ﷺ قال:"مَن تركَ اللِّباسَ وهو يَقدِرُ عليه تواضعًا الله ﷿، دَعَاه الله ﷿ يومَ القيامة على رُؤوس الخلائق حتَّى يُخيِّرَه من حُلَلِ الإيمانِ يَلْبَسُ أيَّها شاءَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7372 - صحيح
سیدنا سہل بن معاذ بن انس جہنی اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص استطاعت کے باوجود، محض اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے طور پر فاخرانہ لباس ترک کرتا ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا، اور ایمان کے لباس اس کے سامنے رکھ کر اس کو فرمائے گا کہ ان میں سے جو چاہے، پہن لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7559]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7559 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرّف لفظ "بن" في النسخ الخطية إلى: عن.
📝 نوٹ / توضیح: (3) قلمی نسخوں میں لفظ "بن" تحریف ہو کر "عن" بن گیا ہے۔
(1) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي مرحوم عبد الرحيم بن ميمون - وهو المَعافري - وقد تابعه زَبّان بن فائد فيما سلف برقم (207)، وسهل بن معاذ حسن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ سند متابعات اور شواہد میں حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں ابو مرحوم عبد الرحیم بن میمون (جو معافری ہے) ہیں، جن کی متابعت زبان بن فائد نے کی ہے جیسا کہ نمبر (207) پر گزر چکا، اور سہل بن معاذ "حسن الحدیث" ہیں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15631)، والترمذي (2481) من طريق عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن، ومعنى قوله: "حلل الإيمان" يعني ما يُعطَى أهل الإيمان من حُلَل الجنة.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (24/ 15631) اور ترمذی (2481) نے عبد اللہ بن یزید مقری کے طریق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ اور "حُلَل الایمان" کے قول کا مطلب ہے: اہل ایمان کو جنت کے جو حُلے (لباس) عطا کیے جائیں گے۔