🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بيان أوصاف حوض الكوثر
حوضِ کوثر کی صفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7560
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوَّار، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئب، عن القاسم بن عَبَّاس، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: يقولون: فِيَّ التِّيهُ، وقد ركبتُ الحمارَ، واعتَقَلتُ الشاةَ، وَلَبِستُ الشَّمْلةَ، وقد قال رسول الله ﷺ:"مَن فعلَ هذا فليس فيه شيءٌ من الكِبْر" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7373 - صحيح
سیدنا نافع بن جبیر بن بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: (وہ فرماتے ہیں) لوگ کہتے ہیں: میرے اندر غرور ہے، حالانکہ میں گدھے پر سوار ہوتا ہوں، بکری کا دودھ دوہتا ہوں، اور کھلی چوڑی چادر پہنتا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے ایسا کیا، اس میں ذرا بھی تکبر نہیں ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7560]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7560 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن ابی ذئب سے مراد "محمد بن عبد الرحمن بن مغیرہ" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2001) عن علي بن عيسى البغدادي، عن شبابة بن سوَّار، بهذا الإسناد. وقال: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ترمذی (2001) نے علی بن عیسیٰ بغدادی سے، انہوں نے شبابہ بن سوار سے اسی سند کے ساتھ کی ہے اور فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
التِّيه، بالكسر، الكِبْر، والشملة، كساء يُتغطَّى به ويُتلفَّف به.
📝 نوٹ / توضیح: "التِّيه" (کسرہ کے ساتھ): اس کا مطلب تکبر ہے۔ "الشملة": وہ چادر جس سے جسم کو ڈھانپا اور لپیٹا جاتا ہے۔
واعتقال الشاة: أن يضع من يحلبُها رجلها بين ساقيه ثم يحلبها، ووقع في رواية الترمذي: احتلبتُ الشاة، والمؤدَّى واحد.
📝 نوٹ / توضیح: "اعتقال الشاۃ" کا مطلب ہے: بکری کا دودھ دوہنے والا اس کی ٹانگ کو اپنی پنڈلیوں کے درمیان دبا لے پھر دوہے، اور ترمذی کی روایت میں "احتلبتُ الشاۃ" (میں نے بکری دوہی) کے الفاظ ہیں، اور مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔