🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. لُبْسُ ثَوْبِ الْأَحْمَرِ
سرخ رنگ کا لباس پہننے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7573
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العدل، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا القاسم بن دِينار الطحَّان، حَدَّثَنَا إسحاق بن منصور السَّلُولي، عن عُمارة بن زاذان، عن ثابت، عن أنس بن مالك: أنَّ مَلِكَ ذي يَزَنٍ أَهدَى للنبيِّ ﷺ حُلَّةً اشتُرِيَتْ بثلاثةٍ وثلاثين بعيرًا وناقةً، فَلَبِسَها النَّبِيُّ ﷺ مَرَّةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7386 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شاہِ ذو یزن نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا حلہ (لباس) تحفہ دیا جو تینتیس اونٹوں اور ایک اونٹنی کے بدلے خریدا گیا تھا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ زیب تن فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7573]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عمارة بن زاذان يروي عن ثابت عن أنس مناكير فيما قاله الإمام أحمد، وقد تفرد بهذا الحديث، والمحفوظ عن أنس: أنَّ الذي بعث بحلة هديةً إلى النَّبِيّ ﷺ هو أُكيدر دُومة، وأما حلة ذي يزن فالصحيح فيها أنه أشتراها حكيم بن حزام ثم أراد أن يهديها للنبي ﷺ، ...» [ترقيم الرساله 7573] [ترقيم الشركة 7482] [ترقيم العلميه 7386]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7573 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف عمارة بن زاذان يروي عن ثابت عن أنس مناكير فيما قاله الإمام أحمد، وقد تفرد بهذا الحديث، والمحفوظ عن أنس: أنَّ الذي بعث بحلة هديةً إلى النَّبِيّ ﷺ هو أُكيدر دُومة، وأما حلة ذي يزن فالصحيح فيها أنه أشتراها حكيم بن حزام ثم أراد أن يهديها للنبي ﷺ، ولم يكن قد أسلم بعد، فلم يقبلها النَّبِيّ ﷺ حتَّى اشتراها منه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمارہ بن زاذان، ثابت کے واسطے سے حضرت انس سے منکر روایات نقل کرتا ہے جیسا کہ امام احمد نے فرمایا ہے، اور وہ اس حدیث میں متفرد ہے۔ حضرت انس سے محفوظ روایت یہ ہے کہ جس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حلہ بطور ہدیہ بھیجا تھا وہ "اُکیدرِ دومہ" تھا۔ رہی بات "ذی یزن" کے حلے کی، تو اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ اسے حکیم بن حزام نے خریدا تھا پھر نبی ﷺ کو ہدیہ کرنا چاہا، اور وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، تو نبی ﷺ نے اسے قبول نہیں فرمایا یہاں تک کہ اسے ان سے خرید لیا۔
وأخرجه أحمد 21/ (13315) عن حسن بن موسى الأشيب، وأبو داود (4034) عن عمرو بن عون، كلاهما عن عمارة بن زاذان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (21/ 13315) نے حسن بن موسیٰ اشیب سے، اور ابوداؤد (4034) نے عمرو بن عون سے کی ہے، یہ دونوں عمارہ بن زاذان سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7573 in Urdu