🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. التداوي من ذات الجنب بالقسط البحري والزيت
قسطِ بحری اور زیتون کے تیل سے "ذات الجنب" (پسلی کے درد) کا علاج
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7635
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وعلي ابن عبد العزيز البَغَوي قالا: حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثني عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عروة، أخبرني أبي، أنَّ عائشة قالت: يا ابنَ أُختي، لقد رأيتُ من تعظيم رسول الله ﷺ عمَّه أمرًا عجيبًا، وذلك أنَّ رسول الله ﷺ كانت تأخذه الخاصرةُ فتشتدُّ به جدًا، وكنَّا نقول: أخذَ رسولَ الله ﷺ عِرْقُ الكُلْية، ولا نَهتدي أن نقول: الخاصرة، عِرقٌ أخذَتْ رسول الله، يومًا، فاشتدَّتْ به حتى أُغميَ عليه وخِفْنا عليه، وفزع الناسُ إليه، فظنّنا أنَّ به ذاتَ الجَنْب فَلَدَدْناه، ثم سُرِّيَ عن رسولِ الله ﷺ وأَفاق، فعَرَفَ (1) أنَّه قد لُدَّ، ووَجَدَ أثر ذلك اللَّدَد، فقال:"أظننتُم أنَّ الله سلَّطها عليَّ؟ ما كان اللهُ لِيُسلِّطَها عليَّ، والذي نفسي بيده، لا يبقَى في البيت أحدٌ إِلَّا لُدَّ إلَّا عمِّي"، قالت: فرأيتُهم يَلُدُّونهم رجلًا رجلًا، قالت عائشة: ومَن في البيت يومَئِذٍ -فتذكُرُ فضلَهم- فلُدَّ الرجالُ أجمعون، وبلغ اللَّدُودُ أزواجَ النبي ﷺ، فلُدِدْنَ امرأةً امرأةً حتى بلغ اللَّدودُ امرأةً منا -قال أبو الزِّناد: ولا أعلمُها إِلَّا ميمونة، قال: وقال الناسُ: أمُّ سَلَمة- فقالت: إنِّي واللهِ لَصائمةٌ، فقلنا: بئسَ والله ما ظننتِ أن نتركَكِ وقد أقسَمَ رسولُ الله ﷺ، فَلَدَدْناها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7447 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے میرے بھانجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ) کی جس طرح تعظیم کرتے ہوئے دیکھا وہ نہایت حیرت انگیز بات تھی، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو میں درد کی شکایت ہوئی جو بہت شدید ہو گئی، ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گردے کی رگ کا درد ہے اور ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اسے «الخاصرة» (پہلو کا درد) کہنا چاہیے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ درد اس شدت سے ہوا کہ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور ہمیں آپ کی زندگی کے بارے میں اندیشہ لاحق ہوا اور لوگ گھبرا کر آپ کے پاس جمع ہو گئے، ہمیں گمان ہوا کہ آپ کو «ذات الجنب» (پھسلی کا درد) کی شکایت ہے، چنانچہ ہم نے آپ کے منہ میں (ایک جانب سے) دوا ڈال دی ( «لَدَدْناه»)، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف میں کمی ہوئی اور آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ آپ کے منہ میں دوا ڈالی گئی ہے اور آپ نے اس دوا کا ذائقہ پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ گمان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بیماری (ذات الجنب) کو مجھ پر مسلط کر دے گا؟ اللہ کبھی اسے مجھ پر مسلط نہیں کرے گا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس گھر میں موجود کوئی بھی شخص ایسا نہ بچے جسے (بطورِ بدلہ) یہ دوا نہ دی جائے سوائے میرے چچا کے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ان سب کو ایک ایک کر کے وہی دوا دی جا رہی تھی، اس دن گھر میں جو مرد موجود تھے (اور عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی فضیلت کا تذکرہ فرماتی تھیں) ان تمام مردوں کو وہ دوا پلائی گئی، یہاں تک کہ ازواج مطہرات کی باری آئی اور انہیں بھی ایک ایک کر کے وہ دوا دی گئی، یہاں تک کہ ہم میں سے ایک خاتون کی باری آئی (ابوالزناد کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا تھیں جبکہ دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں) تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو روزے سے ہوں، لیکن ہم نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے کتنا برا گمان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قسم کھانے کے باوجود ہم تمہیں چھوڑ دیں گے، چنانچہ ہم نے انہیں بھی وہ دوا پلا دی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7635]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزناد» [ترقيم الرساله 7635] [ترقيم الشركة 7543] [ترقيم العلميه 7447]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7635 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: فعرَّفناه أنه، والمثبت من "تلخيص الذهبي" و "مسند أحمد".
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "فعرَّفناہ أنہ" لکھا تھا، جبکہ متن میں درست الفاظ کا اثبات "تلخیص الذہبی" اور "مسند احمد" کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
(1) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "عبد الرحمن بن ابی الزناد" کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 41 / (24870) عن سليمان بن داود بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (24870) میں سلیمان بن داود کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کے ماقبل والی روایت بھی دیکھیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7635 in Urdu