المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. إن الله ليحمي عبده المؤمن الدنيا .
بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا کی (آسائشوں) سے بچاتا ہے
حدیث نمبر: 7652
أخبرنا دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي، حدثنا عبد العزيز بن معاوية البصري، حدثنا محمد بن جَهْضَم، حدثنا إسماعيل بن جعفر عن عُمارة بن غَزِيَّة، عن عاصم ابن عمر بن قَتَادة، محمود بن لَبيد، عن قَتَادة بن النُّعمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أحبَّ اللهُ عبدًا حَمَاه الدنيا، كما يَظُلُّ أحدُكم يَحْمِي سَقِيمَه الماءَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشرحُ (2) هذا الحديث وبيانُه فيما أَمر به عمرُ بن الخطّاب ﵁:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7464 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشرحُ (2) هذا الحديث وبيانُه فيما أَمر به عمرُ بن الخطّاب ﵁:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7464 - صحيح
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو دنیا سے یوں بچاتا ہے جیسے تم اپنے کسی بیمار کو پانی سے بچاتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کے شیوخ اور اس کا بیان درج ذیل اس حدیث میں ہے جس میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا حکم موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7652]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7652 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات في الجملة، لكن قد اختُلف على عاصم بن عمر ابن قتادة عن محمود بن لبيد في تسمية صحابيه، فقيل: عن قَتَادة بن النعمان، وقيل: عن أبي سعيد الخدري -كما في الرواية الآتية برقم (7654) - وقيل: عن رافع بن خديج، وقيل: عن عقبة بن رافع، وقيل: عن محمود بن لبيد مرسلًا، وهذا لا يضرُّ، فمحمودٌ صحابي صغير، وقد ذكرنا هذه الطرق مفصلة في "مسند أحمد" عند الحديث (23622).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راوی مجموعی طور پر ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عاصم بن عمر بن قتادہ عن محمود بن لبید کی سند میں صحابی کے نام میں اختلاف ہوا ہے؛ کسی نے قتادہ بن النعمان کہا، کسی نے ابو سعید خدری (جیسا کہ آگے نمبر 7654 میں ہے)، کسی نے رافع بن خدیج اور کسی نے عقبہ بن رافع کہا۔ بعض نے اسے محمود بن لبید سے "مرسل" بھی روایت کیا ہے، جو کہ نقصان دہ نہیں کیونکہ محمود صحابیِ صغیر ہیں۔ ان تمام طرق کی تفصیل ہم نے "مسند احمد" کی حدیث (23622) کے تحت ذکر کر دی ہے۔
وأخرجه ابن حبان (669) من طريق العباس بن عبد العظيم، عن محمد بن جهضم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (669) میں عباس بن عبد العظیم کے طریق سے محمد بن جہضم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي الحديث عند المصنف برقم (8054) من طريق محمد بن جهضم أيضًا، وبرقم (8455) من طريق إسحاق بن محمد الفَرْوي، كلاهما عن إسماعيل بن جعفر.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث مصنف کے ہاں دوبارہ نمبر (8054) پر محمد بن جہضم کے طریق سے اور نمبر (8455) پر اسحاق بن محمد الفروی کے طریق سے آئے گی، یہ دونوں اسماعیل بن جعفر سے روایت کرتے ہیں۔
وخالفهما عليُّ بن حجر عند الترمذي (2036 م) فرواه عن إسماعيل بن جعفر، عن عمرو، عن عاصم، عن محمود بن لبيد، عن النبي ﷺ مرسَلًا، لم يذكر فيه بين محمود والنبي ﷺ أحدًا. قال الترمذي ومحمود بن لبيد قد أدرك النبيَّ ﷺ ورآه وهو غلام صغير.
🔍 فنی نکتہ / علّت: علی بن حجر نے ان کی مخالفت کی ہے (ترمذی 2036 م) اور اسے اسماعیل بن جعفر عن عمرو عن عاصم کے طریق سے محمود بن لبید سے براہِ راست "مرسل" روایت کیا ہے، یعنی محمود اور نبی ﷺ کے درمیان کسی صحابی کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ محمود بن لبید نے نبی ﷺ کا زمانہ پایا ہے اور بچپن میں آپ ﷺ کی زیارت کی ہے۔
وأخرجه من حديث محمود بن لبيد كذلك أحمد 39/ (23622) من طريق سليمان بن بلال عن عمرو بن أبي عمرو، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (23622) میں سلیمان بن بلال کے طریق سے عمرو بن ابی عمرو سے اسی طرح محمود بن لبید کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
ورجّح أبو حاتم كما في "العلل" (1820) أن الصحيح طريق محمود بن بن لبيد عن النبي ﷺ.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ابو حاتم نے "العلل" (1820) میں ترجیح دی ہے کہ صحیح طریق یہی ہے کہ محمود بن لبید براہِ راست نبی ﷺ سے روایت کریں۔
(2) تحرَّف في (ز) إلى: وشيوخ.
📌 اہم نکتہ: نسخہ (ز) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "وشيوخ" ہو گیا ہے۔