🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما تقرب إلى الله يوم النحر بشيء أحب إلى الله من إهراق الدم
قربانی کے دن اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے بڑھ کر کوئی عمل پسندیدہ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7712
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن ثَوْر بن يزيد، عن راشد بن سعد، عن عبد الله بن لُحَي (1) ، عن عبد الله بن قُرْط قال: قال رسول الله ﷺ:"أعظمُ الأيام عندَ الله يومُ النَّحر، [ثم] (2) يومُ القَرِّ (3) "، وقُدِّم إلى النبيِّ ﷺ بَدَناتٌ خمسٌ أو ستٌّ، فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ بأيَّتِهِنَّ يبدأُ بها، فلما وَجَبَتْ جُنوبُها قال كلمةً خفيفةَ لم أفهمها، فسألتُ مَن يليه، فقال: قال:"مَن شاءَ اقتَطَعَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7522 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن قرط فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے مقرب ترین دن قربانی کا دن ہے، اس کے بعد قربانی سے اگلا دن ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانچ یا چھ اونٹ آئے، وہ ایک دوسرے کے اوپر گر رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اس کو ذبح کریں۔ جب وہ ذبح ہو گئے اور ان کے جسموں کی حرکت ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستگی کے ساتھ کوئی بات بولی، جس کو میں سمجھ نہیں سکا، میں نے ساتھ والے آدمی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اب جو چاہے ان کا گوشت کاٹ لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7712]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7712 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: يحيى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر 'یحییٰ' ہو گیا ہے۔
(2) أثبتناها من "التلخيص"، وليست في النسخ الخطية.
📝 نوٹ / توضیح: اس کا اثبات ہم نے 'التلخیص' سے کیا ہے، یہ قلمی نسخوں میں موجود نہیں تھا۔
(3) تحرّف في (ص) و (م) إلى: النفر. ويوم القَرّ هو ثاني أيام العيد، وقد فسَّره ثور كما وقع في رواية أبي داود.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ 'ص' اور 'م' میں یہ لفظ تحریف ہو کر 'النفر' ہو گیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: 'یوم القر' سے مراد عید کا دوسرا دن ہے، اور ثور (بن یزید) نے اس کی یہی تفسیر کی ہے جیسا کہ ابوداؤد کی روایت میں موجود ہے۔
(4) إسناده صحيح. يحيى: هو ابن سعيد القطان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود 'یحییٰ' سے مراد یحییٰ بن سعید القطان ہیں۔
وأخرجه أحمد 31/ (19075)، والنسائي (4083)، وابن حبان (2811) من طريق يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. وروايتا النسائي وابن حبان مختصرتان.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (31/19075)، نسائی (4083) اور ابن حبان (2811) نے یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: امام نسائی اور ابن حبان کی روایت کردہ احادیث مختصر ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1765) من طريق عيسى بن يونس السبيعي، عن ثور بن يزيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (1765) نے عیسیٰ بن یونس سبیعی کے طریق سے، انہوں نے ثور بن یزید سے اور انہوں نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔