علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. إن الجذع يوفي مما يوفي منه الثني .
جذع (چھ ماہ کا دنبہ) وہی کفایت کرتا ہے جو ثنی (ایک سال کا جانور) کرتا ہے
حدیث نمبر: 7728
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا علي بن عاصم، حدثني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تجوزُ في البُدْن (2) : العَوْراءُ، والعَجْفاءُ، والجَرْباءُ، والمُصطَلَمةُ أَطْباؤُها كلُّها" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7537 - علي بن عاصم ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7537 - علي بن عاصم ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نذر میں عوراء (اندھا جانور)، عجفاء (کمزور جانور)، جرباء (خارش زدہ) اور جس کے سارے تھن کٹے ہوئے ہوں جائز نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7728]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، تفرَّد به مرفوعًا علي بن عاصم»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7728 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) المثبت من (ز)، ومثله في روايتي الطبراني، وفي (ص) و (م): النذر، ومثله في رواية ابن الأعرابي.
📝 نوٹ / توضیح: یہاں متن کا اثبات نسخہ 'ز' سے کیا گیا ہے جیسا کہ طبرانی کی روایات میں ہے، جبکہ نسخہ 'ص' و 'م' اور ابن الاعرابی کے ہاں 'النذر' کا لفظ ہے۔
(3) إسناده ضعيف، تفرَّد به مرفوعًا علي بن عاصم -وهو ابن صهيب الواسطي- وهو ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس روایت کو مرفوعاً بیان کرنے میں علی بن عاصم (ابن صہیب واسطی) منفرد ہیں اور وہ ضعیف راوی ہیں۔
وقد خولف في رفعه كما سيأتي. ابن طاووس: هو عبد الله.
🔍 فنی نکتہ / علّت: علی بن عاصم کی اس روایت کو مرفوع کرنے میں مخالفت کی گئی ہے جیسا کہ تفصیل آگے آئے گی۔ ابن طاؤس سے مراد عبداللہ بن طاؤس ہیں۔
وأخرجه ابن الأعرابي في "معجمه" (620)، والطبراني في "الكبير" (10928)، وفي "الأوسط" (3578) من طرق عن علي بن عاصم، بهذا الإسناد. زاد ابن الأعرابي: قال علي بن عاصم: كان عطاء يفتي به ولا يرفعه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن الاعرابی 'معجم' (620) اور طبرانی 'الکبیر' (10928) و 'الاوسط' (3578) میں علی بن عاصم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابن الاعرابی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عطاء اس پر فتویٰ دیتے تھے مگر اسے 'مرفوع' بیان نہیں کرتے تھے۔
وأخرجه إبراهيم الحربي في "غريب الحديث" 3/ 1198 عن أحمد بن حنبل، عن وكيع، عن سفيان الثوري، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن طاووس، عن ابن عباس موقوفًا قال: لا تجوز المُصرَّمة أطباؤها كلُّها. وسنده صحيح. وفسَّرها بأن يُصرَم طبيها (أي: ضَرْعها) فيقرح ولا يخرج منه اللبنُ فَيَيْبَسَ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابراہیم حربی نے "غریب الحدیث" (3/ 1198) میں امام احمد بن حنبل، وکیع بن جراح، سفیان ثوری، عبد اللہ بن ابی نجیح اور طاؤس کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ جانور (قربانی کے لیے) جائز نہیں جس کے تمام تھن کاٹ دیے گئے ہوں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: 'مصرمہ' کی وضاحت یہ کی گئی ہے کہ اس کے تھن (لیوا) کاٹ دیے جائیں، جس سے وہ زخمی ہو جائے، دودھ نکلنا بند ہو جائے اور وہ خشک ہو جائے۔
قال ابن الأثير في "النهاية": "المصطَلَمة أطباؤها" أي: المقطوعة الضروع، والأَطْباء: واحدها طُبْي، بالضم والكسر. وفسَّرها بالأخلاف جمع خِلْف: وهو الضَّرْع.
📖 حوالہ / مصدر: علامہ ابن الاثیر نے "النهایہ" میں لکھا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "المصطلمہ اطباؤہا" سے مراد وہ جانور ہے جس کے تھن کٹے ہوئے ہوں۔ 'الاطباء' کا واحد 'طبی' (طا پر پیش یا زیر کے ساتھ) ہے۔ انہوں نے اس کی تفسیر 'اخلاف' سے کی ہے جو 'خلف' کی جمع ہے، اور اس کا معنی 'تھن' (Udder) ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7728 in Urdu