🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ .
لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری (عقیقہ) ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7786
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري، حدثنا إبراهيم بن هلال، أخبرنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، حدثنا عبد الله بن بُرَيدة (1) ، عن أبيه قال: كُنَّا في الجاهلية إذا وُلِد لنا غلامٌ ذَبَحْنا عنه شاةً، وحلَقْنا رأسَه، ولَطَحْنا رَأسَه بدمِها، فلمَّا كان الإسلامُ كنَّا إذا وُلِدَ لنا غلامٌ ذَبَحْنا عنه شاةً، وحلَقْنا رأسَه، ولطَخْنا رأسَه بزَعْفَران (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7594 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم دورِ جاہلیت میں جب ہمارے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو ہم اس کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتے، اس کا سر منڈواتے اور اس کے سر پر (ذبح شدہ جانور کا) خون مل دیتے تھے، پھر جب اسلام آیا تو ہم (طریقہ بدل کر) لڑکا پیدا ہونے پر بکری ذبح کرنے لگے، اس کا سر منڈواتے اور اس کے سر پر زعفران ملنے لگے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7786]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل إبراهيم بن هلال» [ترقيم الرساله 7786] [ترقيم الشركة 7693] [ترقيم العلميه 7594]

الحكم على الحديث: إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7786 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في (ز) و (م) إلى: يزيد، وفي (ص) إلى: زيد.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (م) میں یہ لفظ تحریف (Scribal Error) کا شکار ہو کر "یزید" ہو گیا ہے، جبکہ نسخہ (ص) میں اسے "زید" لکھا گیا ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل إبراهيم بن هلال -وهو البوزنجردي- والحسين بن واقد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابراہیم بن ہلال (البوزنجردی) اور حسین بن واقد کی موجودگی کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (2843) من طريق علي بن الحسين بن واقد، عن أبيه الحسين، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد (2843) نے علی بن حسین بن واقد کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد حسین بن واقد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عائشة عند ابن حبان (5308)، ورجاله ثقات لكن الدارقطني أعله في "علله" (3911) بالانقطاع.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت مروی ہے جو امام ابن حبان (5308) کے ہاں موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، تاہم امام دارقطنی نے اپنی کتاب "العلل" (3911) میں اس میں "انقطاع" (سند کا ٹوٹا ہوا ہونا) کی وجہ سے علت (خرابی) بیان کی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7786 in Urdu