المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. طريق العقيقة وأيامها .
عقیقے کا طریقہ اور اس کے ایام کا بیان
حدیث نمبر: 7787
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الملك بن أبي سليمان، عن عطاء، عن أمِّ كُرْز وأبي كُرْز، قالا: نَذَرَتِ امرأةٌ من آل عبد الرحمن بن أبي بكر إنْ ولدتِ امرأةُ (3) عبد الرحمن نَحَرْنا جَزُورًا، فقالت عائشةُ: لا، بل السُّنةُ أفضلُ: عن الغلام شاتانِ مكافَأَتان، وعن الجارية شاةٌ، تُقطَّعُ جُدُولًا ولا يُكسَرُ لها عظَمٌ، فيأكلُ ويُطعِمُ ويتصدَّقُ، وليكن ذلك يومَ السابع، فإن لم يكُنْ ففي أربعةَ عشرَ، فإن لم يكن ففي إحدى وعشرين (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الملك بن أبي سليمان، عن عطاء، عن أمِّ كُرْز وأبي كُرْز، قالا: نَذَرَتِ امرأةٌ من آل عبد الرحمن بن أبي بكر إنْ ولدتِ امرأةُ (3) عبد الرحمن نَحَرْنا جَزُورًا، فقالت عائشةُ: لا، بل السُّنةُ أفضلُ: عن الغلام شاتانِ مكافَأَتان، وعن الجارية شاةٌ، تُقطَّعُ جُدُولًا ولا يُكسَرُ لها عظَمٌ، فيأكلُ ويُطعِمُ ويتصدَّقُ، وليكن ذلك يومَ السابع، فإن لم يكُنْ ففي أربعةَ عشرَ، فإن لم يكن ففي إحدى وعشرين (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7595 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الملك بن أبي سليمان، عن عطاء، عن أمِّ كُرْز وأبي كُرْز، قالا: نَذَرَتِ امرأةٌ من آل عبد الرحمن بن أبي بكر إنْ ولدتِ امرأةُ (3) عبد الرحمن نَحَرْنا جَزُورًا، فقالت عائشةُ: لا، بل السُّنةُ أفضلُ: عن الغلام شاتانِ مكافَأَتان، وعن الجارية شاةٌ، تُقطَّعُ جُدُولًا ولا يُكسَرُ لها عظَمٌ، فيأكلُ ويُطعِمُ ويتصدَّقُ، وليكن ذلك يومَ السابع، فإن لم يكُنْ ففي أربعةَ عشرَ، فإن لم يكن ففي إحدى وعشرين (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7595 - صحيح
سیدنا ام کریز اور ابوکریز فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر کی اولاد میں سے ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر عبدالرحمن کی بیوی کو بچہ پیدا ہو، تو ہم اونٹ ذبح کریں گے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ سنت یہ ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے۔ اس کے اعضاء الگ الگ کر لیے جائیں لیکن اس کی ہڈیاں نہ توڑی جائیں۔ اس کا گوشت خود بھی کھاؤ، (دوستوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی) کھلاؤ اور اللہ کی راہ میں صدقہ بھی کرو۔ یہ تمام کام ساتویں دن ہونے چاہئیں، اگر ساتویں دن نہ کر سکو تو چودھویں دن۔ اگر چودھویں دن بھی نہ کر سکو تو اکیسویں دن۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7787]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7787 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إلى هنا انتهت نسخة (ص) التي بين أيدينا.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے پاس موجود نسخہ (ص) یہاں پر ختم ہو گیا ہے۔
No matching content found
📝 نوٹ / توضیح: یہاں متعلقہ مواد دستیاب نہیں ہو سکا۔
No matching content found أختها فقد كوفئت، فهي مكافِئة ومكافَأة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (لفظ مکافأۃ کی تشریح): اگر ایک بکری اپنی دوسری ساتھی بکری کے برابر ہو تو کہا جاتا ہے کہ اس کی برابری کی گئی، پس وہ "مکافِئہ" (برابری کرنے والی) اور "مکافأۃ" (جس کی برابری کی گئی ہو) کہلاتی ہے۔
أو يكون معناه: معادلتان لما يجب في الزكاة والأضحية من الأسنان، ويحتمل مع الفتح أن يراد: مذبوحتان، من: كافأَ الرجلُ بين بعيرين: إذا نحر هذا ثم هذا معًا من غير تفريق، كأنه يريد شاتين يذبحهما في وقت واحد.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: (مکافأتان کا دوسرا معنی): اس سے مراد ایسی دو بکریاں ہیں جو زکوٰۃ اور قربانی (الاضحیۃ) میں واجب ہونے والی عمر (اسنان) کے اعتبار سے ایک دوسرے کے برابر ہوں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لفظ کے زبر (فتح) کے ساتھ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد ایسی دو بکریاں ہوں جنہیں اکٹھا ذبح کیا گیا ہو؛ جیسے عربی میں کہا جاتا ہے "کافأ الرجل بین بعیرین" یعنی جب کوئی شخص دو اونٹوں کو کسی وقفے کے بغیر ایک ساتھ ذبح کرے؛ گویا اس سے مراد ایسی دو بکریاں ہیں جنہیں ایک ہی وقت میں ذبح کیا جائے۔
وقولها: "جُدولًا" الجُدول جمع جدل، بالكسر والفتح: وهو العُضو.
📝 نوٹ / توضیح: (لغوی وضاحت): حدیث میں مذکور لفظ "جُدولًا"، یہ "جَدْل" یا "جِدْل" کی جمع ہے، جس کا معنی "عضو" (جسم کا حصہ یا ٹکڑا) ہے۔