🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب:
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7792
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرب، عن مُرَي بن قَطَري، عن عَدِيِّ بن حاتم قال: قلت: يا رسولَ الله، إِنَّا نَصيدُ الصيدَ فلا نجدُ سِكّينًا إِلَّا الظَّرَارَ (1) وشِقَّةَ العصا، فقال:"أمِرَّ الدَّمَ بما شِئتَ، واذكر اسم الله ﷿" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. آخر كتاب الذبائح [كتاب التوبة والإنابة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم شکار کرتے ہیں، (کئی مرتبہ) ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی، صرف، دھاری دار پتھر، یا بانس کا چھلکا ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ بھی ہو، خون بہانا ضروری ہے۔ اور اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7792]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7792 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ إلى: الظراب، والمثبت من مصادر التخريج، وهو ما شرح عليه صاحب "النهاية"، فقال: الظِّرار: جمع ظُرَر، وهو حجر صُلْب محدَّد، ويجمع أيضًا على أظِرَّة. ويحتمل أن تكون الظّرَان بالنون، وهو جمعٌ آخر له.
📝 نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں یہ لفظ "الظراب" تحریف ہو گیا ہے، جبکہ درست لفظ "الظرار" ہے جیسا کہ مصادرِ تخریج میں موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "النہایہ" کے مؤلف (ابن اثیر) کے مطابق "الظرار"، "ظُرَر" کی جمع ہے، جس کا معنی سخت دھار دار پتھر ہے۔ اس کی جمع "اظرہ" بھی آتی ہے، اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ نون کے ساتھ "الظران" ہو، جو اس کی ایک اور جمع ہے۔
(2) إسناده حسن. أبو نعيم هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثَّوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین ہیں اور سفیان سے مراد سفیان ثوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 30/ (18250)، وابن ماجه (3177) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان الثوري بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 30/ (18250) اور ابن ماجہ (3177) نے عبد الرحمن بن مہدی کے طریق سے، انہوں نے سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد (18262) و (18264) و (18267) و (19374)، وأبو داود (2824)، والنسائي (4475) و (4797)، وابن حبان (332) من طرق عن سماك بن حرب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (متعدد مقامات)، ابوداؤد (2824)، نسائی (4475، 4797) اور ابن حبان (332) نے سماک بن حرب کے مختلف طریقوں سے تفصیلاً اور اختصاراً روایت کیا ہے۔