🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. من سعادة المرء أن يطول عمره ويرزقه الله الإنابة .
انسان کی خوش بختی یہ ہے کہ اس کی عمر طویل ہو اور اللہ اسے رجوع و انابت کی توفیق دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7793
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن عِمران بن الحَكَم (1) السُّلَمي، عن ابن عباس قال: قالت قريشٌ للنبيِّ ﷺ: ادعُ لنا ربَّك أن يجعلَ لنا الصَّفا ذهبًا ونؤمنَ بك، قال:"أفتَفعَلون؟" قالوا: نعم، فدعا، فأتاه جبريلُ ﵇ فقال:"إنَّ الله تعالى يقرأُ عليك السَّلامَ، ويقول: إن شئتَ أصبحَ الصَّفا ذهبًا، فمن كَفَرَ بعدَ ذلك عذّبتُه عذابًا لا أُعذِّبُه أحدًا من العالَمِين، وإن شئتَ فَتَحتُ لهم بابَ التَّوبة والرَّحمة، قال: بل بابَ التَّوبةِ والرَّحمة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی: آپ ہمارے لیے دعا کریں کہ صفا پہاڑ ہمارے لیے سونا بن جائے، تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم واقعی ایمان لے آؤ گے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی۔ فوراً سیدنا جبریل امین علیہ السلام حاضر بارگاہ ہو گئے اور عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو سلام ارشاد فرماتا ہے اور فرماتا ہے، اگر آپ کی خواہش ہے تو ہم کوہ صفا سونے کا بنا دیتے ہیں، لیکن اگر اس کے باوجود کسی نے انکار کیا تو پھر میں ان کو ایسا عذاب دونگا جو ساری کائنات میں کبھی کسی کو نہیں دیا ہو گا۔ اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے یا اللہ۔ ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7793]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7793 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في النسخ الخطية، ومثله في "المسند"، قال الحافظ ابن حجر في "التعجيل" 2/ 81: كذا وقع، والصواب: عمران بن الحارث أبو الحكم كما في "صحيح مسلم" وغيره. قلنا: وسلف الحديث عند المصنف برقم (175) وفيه أيضًا: عمران بن الحكم.
📝 نوٹ / توضیح: خطی نسخوں اور خود "المسند" میں بھی اسی طرح (عمران بن الحکم) لکھا ہوا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر "تعجیل المنفعہ" 2/ 81 میں فرماتے ہیں کہ درست نام "عمران بن الحارث ابو الحکم" ہے جیسا کہ "صحیح مسلم" وغیرہ میں مروی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ حدیث پیچھے مصنف کے ہاں نمبر (175) پر گزر چکی ہے اور وہاں بھی "عمران بن الحکم" ہی درج ہے۔
(2) إسناده صحيح. سفيان: هو الثَّوري. وهو في "مسند أحمد" 4/ (2166).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📌 اہم نکتہ: سفیان سے مراد سفیان ثوری ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 4/ (2166) میں موجود ہے۔