المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ما خلق الله من شيء إلا وقد خلق له ما يغلبه .
اللہ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جس کے لیے اسے مغلوب کرنے والی چیز پیدا نہ کی ہو
حدیث نمبر: 7825
أخبرني الحسين بن علي الدَّارمي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا عمر بن حفص الشَّيْباني، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا عبد الرحيم بن كَرْدَم بن أَرطَبَانَ ابْنُ عَمِّ ابن عَون، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"ما خلقَ اللهُ من شيء إلَّا وقد خَلَقَ له ما يَغلِبُه، وخلق رحمتَه تَغلِبُ غضبَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا. أخبرنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمْدَوَيهِ الحافظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7633 - هذا منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا. أخبرنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمْدَوَيهِ الحافظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7633 - هذا منكر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے لیے کوئی دوسری چیز بھی پیدا فرمائی ہے جو اس پہلی پر غالب آ جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت پیدا فرمائی، یہ اللہ تعالیٰ کے غضب پر غالب آ جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7825]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7825 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف، عبد الرحيم بن كردم روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات" وقال: كان يخطئ، وقال أبو أحمد الحاكم: لا يتابع على حديثه، وقال أبو حاتم: مجهول! وقد خالفه معمر فرواه في "جامعه" (21017)، وعنه عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 354 - 355 عن زيد بن أسلم مرسلًا مطولًا، وتشكّك في رفعه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عبد الرحیم بن کردم سے ایک جماعت نے روایت تو کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں بھی ذکر کیا ہے مگر ساتھ ہی کہا کہ "وہ غلطیاں کرتے تھے"۔ ابو احمد الحاکم کے بقول ان کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی، جبکہ ابو حاتم نے انہیں "مجہول" قرار دیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: معمر بن راشد نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اپنی "جامع" (21017) میں روایت کیا ہے، اور ان سے امام عبد الرزاق نے اپنی "تفسیر" (1/ 354-355) میں زید بن اسلم کے واسطے سے "مرسل اور طویل" روایت کیا ہے، اور اس کے مرفوع ہونے میں شک کا اظہار کیا ہے۔
وأخرجه أبو الشيخ كما في "الغرائب الملتقطة" لابن حجر (2393) عن عبد الله بن محمد، عن عمر بن حفص الشيباني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو الشیخ نے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ ابن حجر کی "الغرائب الملتقطہ" (2393) میں عبد اللہ بن محمد عن عمر بن حفص الشیبانی کی سند سے اسی روایت کے تحت مذکور ہے۔
وأخرجه البزار (3255 - كشف الأستار) من طريق يحيى بن عمر، عن أبي مرحوم عبد الرحيم بن كردم، به. وقال: لا نعلم رواه إلّا أبو مرحوم، وهو بصري من أقارب ابن عون. وقال الهيثمي في "مجمع الزوائد" 10/ 23: وفيه من لم أعرفه؛ يشير إلى يحيى بن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بزار نے (کشف الاستار: 3255) میں یحییٰ بن عمر کے طریق سے بحوالہ ابو مرحوم عبد الرحیم بن کردم روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام بزار فرماتے ہیں کہ "ہمارے علم کے مطابق اسے صرف ابو مرحوم نے روایت کیا ہے جو کہ بصری ہیں اور ابن عون کے رشتہ داروں میں سے ہیں"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: علامہ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (10/ 23) میں کہا ہے کہ "اس میں ایک راوی ایسا ہے جسے میں نہیں جانتا"، ان کا اشارہ یحییٰ بن عمر کی طرف ہے۔
قلنا: وصحَّ في معناه حديث أبي هريرة عند البخاري (3194) ومسلم (2751)، مرفوعًا: "لمّا قضى الله الخلقَ كتب في كتابه، فهو عنده فوق العرش: إنّ رحمتي غَلَبَت غضبي".
🧩 متابعات و شواہد: ہم کہتے ہیں کہ اسی معنی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث صحیح بخاری (3194) اور صحیح مسلم (2751) میں ثابت ہے کہ: "جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں لکھا، جو اس کے پاس عرش کے اوپر موجود ہے، کہ: بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب آگئی"۔