المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ما خلق الله من شيء إلا وقد خلق له ما يغلبه .
اللہ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جس کے لیے اسے مغلوب کرنے والی چیز پیدا نہ کی ہو
حدیث نمبر: 7824
أخبرني إبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم العَدْل، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن أبي عثمان، عن أبي هريرة قال: قال خَليلي وصَفِيِّي صاحبُ هذه الحُجْرة ﷺ:"ما نُزِعَتِ الرَّحمةُ إِلَّا مِن شَقِيٍّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو عثمان هذا: هو مولى المغيرة، وليس بالنَّهْديِّ، ولو كان النَّهديَّ لحكمتُ بصحَّته على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7632 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو عثمان هذا: هو مولى المغيرة، وليس بالنَّهْديِّ، ولو كان النَّهديَّ لحكمتُ بصحَّته على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7632 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے دوست، اس حجرے میں رہنے والے نے فرمایا ہے: رحمت صرف بدبخت شخص سے الگ کی جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی سند میں جو ابوعثمان ہیں، یہ مغیرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، یہ نہدی نہیں ہیں۔ اور یہ نہدی ہوتے تو میں فیصلہ کر دیتا کہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7824]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7824 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أبي عثمان: وهو التَّبان. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وجرير: هو ابن عبد الحميد الضبّي، ومنصور: هو ابن المعتمر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابو عثمان (التبان) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس سند کے دیگر راویوں کی وضاحت یہ ہے: یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "النیصابوری" ہیں، جریر سے مراد "ابن عبد الحمید الضبی" ہیں، اور منصور سے مراد "ابن المعتمر" ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/) 8001) و 15/ (9702) و 16/ (9940) و (9945) و (10951)، وأبو داود (4942)، والترمذي (1923)، وابن حبان (462) و (466) من طرق عن منصور بن المعتمر، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد نے اپنی مسند میں (13/ 8001)، (15/ 9702)، (16/ 9940، 9945، 10951)، امام ابو داود نے (4942)، امام ترمذی نے (1923)، اور ابن حبان نے (462 اور 466) میں منصور بن المعتمر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن" قرار دیا ہے۔