المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. يؤتى بحسنات العبد وسيئاته فيقص بعضها ببعض .
بندے کی نیکیاں اور گناہ لائے جائیں گے اور بعض کا بعض سے قصاص (برابری) کیا جائے گا
حدیث نمبر: 7833
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد الذُّهلي، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا المُعتمِر، قال: سمعتُ الحكمَ يُحدِّث عن الغِطْرِيف، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، عن النَّبِيِّ ﷺ، عن الرُّوح الأَمين قال:"قال الربُّ ﷿: يُؤتَى بحسناتِ العبد وسيئاتِه، فيُقَصُّ بعضُها ببعضٍ، فإن بَقيَتْ حسنةٌ وَسَّعَ الله له في الجنَّة". قال: فدخلتُ على يزداد (1) ، فحدَّثَنا بمثل هذا الحديث، قلتُ له: فإن ذهبتِ الحسنةُ؟ قال: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا﴾ اقرأ إلى قوله: ﴿يُوعَدُونَ﴾ [الأحقاف: 16] قلتُ له: أفرأيتَ قولَه ﷿: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مَّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [السجدة: 17] ؟ فقال: العبدُ يَعمَلُ سِرًّا أجرُه على الله ﷿، لم (2) يُعلِمْ به الناسَ، فأسرَّ الله له يومَ القيامة قُرَّة عَينٍ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد لليمانيِّين، ولم يُخرجاه. والحَكَم الذي يروي عنه المعتمرُ بن سليمان: هو الحكم بن أبان العَدَني، والغِطريفُ: هو أبو هارون الغِطريف بنُ عبيد الله اليَمَاني.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7641 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد لليمانيِّين، ولم يُخرجاه. والحَكَم الذي يروي عنه المعتمرُ بن سليمان: هو الحكم بن أبان العَدَني، والغِطريفُ: هو أبو هارون الغِطريف بنُ عبيد الله اليَمَاني.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7641 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بندے کی نیکیاں اور برائیاں لائی جائیں گی، پھر ان کا موازنہ کیا جائے گا، اگر نیکیاں بڑھ گئیں، تو اللہ اس کو جنت میں وسیع مقام عطا فرمائے گا (راوی کہتے ہیں) میں سیدنا یزداد کے پاس گیا تو انہوں نے بھی ایسی ہی حدیث بیان کی۔ میں نے ان سے کہا: اگر نیکیاں پوری ہو جائیں تو کیا ہو گا؟ انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ [ الأحقاف: 16 ] ” یہ ہیں وہ جن کی نیکیاں ہم قبول فرمائیں گے اور ان کی تقصیروں سے درگزر فرمائیں گے جنت والوں میں سچا وعدہ جو انہیں دیا جاتا تھا “ میں نے کہا: مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نظر آتا ہے۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ [ السجدة: 17 ] ” تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا “ اور فرمایا: بندہ جو کام پوشیدہ کرتا ہے، اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم ہے۔ اس کو لوگ نہیں جانتے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے قیامت کے دن اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور وہ حکم جن سے معتمر بن سلیمان روایت کرتے ہیں، وہ حکم بن ابان عدنی ہیں۔ اور غطریف ابوہارون غطریف بن عبیداللہ یمانی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7833]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7833 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (م): أزداد، وقبلها بياض قدر كلمة.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (م) میں لفظ "أزداد" (الف کے ساتھ) لکھا ہے اور اس سے پہلے ایک لفظ کے برابر خالی جگہ (بیاض) چھوڑی گئی ہے۔
(2) في (ز) و (ب): فلا.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں لفظ "فلا" درج ہے۔
(3) إسناده ضعيف، الغطريف - وهو أبو هارون اليماني - لم يذكروا راويًا عنه غير الحكم بن أبان، ولم يوثقه معتبَر، فهو مجهول. المعتمر: هو ابن سليمان بن طرخان.
⚖️ درجۂ حدیث: سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "الغطریف" (ابو ہارون الیمانی) سے حکم بن ابان کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور نہ ہی کسی معتبر محدث نے اس کی توثیق کی، لہذا وہ "مجہول" ہے۔ راوی "المعتمر" سے مراد معتمر بن سلیمان بن طرخان ہیں۔
وأما يزداد الذي سأله الحكم بن أبان فيقال فيه أيضًا: أزداد، وهو ابن فساءة الفارسي اليماني، جهَّله أبو حاتم، وقال الحافظ في "التقريب": مختلف في صحبته.
🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "یزداد" (جس سے حکم بن ابان نے سوال کیا) کو "أزداد" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ "ابن فساءہ الفارسی الیمانی" ہے۔ ابو حاتم نے اسے "مجہول" قرار دیا ہے جبکہ حافظ ابن حجر نے "تقریب" میں لکھا ہے کہ اس کی صحابیت میں اختلاف ہے۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا البخاري في "التاريخ الكبير" 7/ 113، وابن أبي الدنيا في "التوبة" (153)، والبزار في "مسنده" (5272)، والطبراني في "تفسيره" 21/ 105 - 106 و 26/ 18، والدولابي في "الكنى" (1978)، وابن أبي حاتم في "تفسيره" كما في "تفسير ابن كثير" 7/ 265 - 266، والطبراني في "الكبير" (12832)، وأبو نعيم في "الحلية" 3/ 91، والبيهقي في "شعب الإيمان" (6515) و (6516) من طرق عن المعتمر بن سليمان، بهذا الإسناد. وعند البعض جعله من كلام النَّبِيّ ﷺ، والبعض من كلام جبريل، والبعض الآخَر من كلام رب العزة ﷻ. وقال البزار وهذا الحديث بهذا اللفظ لا نعلمه يُروى إلّا عن ابن عباس، ولا نعلم له طريقًا عن ابن عباس غير هذا الطريق، ولا نعلم أسند الغطريف عن جابر غير هذا الحديث، ولا رواه عن الغطريف إلّا الحكم بن أبان، والحكم ليس به بأس.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام بخاری (التاریخ الکبیر 7/ 113)، ابن ابی الدنیا (التوبہ 153)، بزار (مسند 5272)، طبرانی (تفسیر 21/ 105-106 و 26/ 18)، دولابی (الکنی 1978)، ابن ابی حاتم (تفسیر)، طبرانی (الکبیر 12832)، ابو نعیم (الحلیہ 3/ 91) اور بیہقی (شعب الایمان 6515، 6516) نے معتمر بن سلیمان کے مختلف طرق سے نقل کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بعض نے اسے نبی ﷺ کا کلام، بعض نے جبریلؑ کا اور بعض نے اللہ تعالی کا کلام (حدیث قدسی) قرار دیا ہے۔ امام بزار کہتے ہیں کہ یہ الفاظ صرف ابن عباسؓ سے مروی ہیں اور ان سے سوائے اس ایک طریق کے کوئی اور سند نہیں، نیز غطریف کی جابرؓ سے اس کے علاوہ کوئی مسند روایت نہیں، اور غطریف سے صرف حکم بن ابان نے روایت کیا ہے، اور حکم "لیس بہ بأس" (ٹھیک) راوی ہے۔
وأخرجه عبد بن حميد في "مسنده" (661) عن إبراهيم بن الحكم بن أبان، وابن أبي داود في "البعث" (30)، والذهبي في "سير أعلام النبلاء" 12/ 340 من طريق يزيد بن أبي حكيم، كلاهما عن الحكم بن أبان، به مختصرًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد بن حمید (مسند 661) نے ابراہیم بن حکم کے طریق سے، ابن ابی داؤد (البعث 30) اور امام ذہبی (سیر اعلام النبلاء 12/ 340) نے یزید بن ابی حکیم کے طریق سے، حکم بن ابان سے مختصرًا روایت کیا ہے۔