المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. عذاب هذه الأمة فى القتل والزلازل والفتن .
اس امت کا عذاب قتل و غارت، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے
حدیث نمبر: 7841
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا محمد بن فُضَيل بن غَزْوان، حَدَّثَنَا صَدَقة بن المثنّى، حَدَّثَنَا رِياح بن الحارث (2) ، عن أبي بُرْدة، قال: بَيْنا أنا واقفٌ في السُّوق في إمارة زياد، إذ ضربتُ بإحدى يديَّ على الأخرى تعجُّبًا، فقال رجلٌ من الأنصار - قد كانت لوالده صحبةٌ مع رسول الله ﷺ: ممّا تَعجَبُ يا أبا بُرْدة؟ قلتُ أعجَبُ من قومٍ دينُهم واحدٌ، ونبيُّهم واحدٌ، ودعوتُهم واحدةٌ، وحجُّهم واحدٌ، وغزوُهم واحدٌ، يَستحِلُّ بعضُهم قتل بعض، قال: فلا تَعجَبْ، فإنِّي سمعتُ والدي أخبرني أنه سَمِعَ رسولَ الله ﷺ يقول:"إِنَّ أُمّتي (1) أُمَّةٌ مرحومةٌ ليس عليها في الآخرة حسابٌ ولا عذابٌ، إنما عذابُها في القَتْلِ والزَّلازل والفِتَن" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7649 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7649 - صحيح
ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں زیاد کی امارت کے دوران بازار میں کھڑا تھا کہ اچانک میں نے تعجب سے اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مارا، تو ایک انصاری شخص - جن کے والد صحابی رسول تھے - نے پوچھا: اے ابوبردہ! تم کس بات پر تعجب کر رہے ہو؟ میں نے کہا: مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جن کا دین ایک ہے، نبی ایک ہے، دعوت ایک ہے، حج اور جہاد ایک ہے، پھر بھی وہ ایک دوسرے کا خون حلال سمجھتے ہیں، تو انہوں نے کہا: تعجب نہ کرو، کیونکہ میں نے اپنے والد سے سنا ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بے شک میری یہ امت ایسی امت ہے جس پر رحم کیا گیا ہے، آخرت میں اس پر کوئی حساب اور عذاب نہیں ہے، اس کا عذاب صرف (دنیا میں) قتل، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں رکھ دیا گیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7841]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7841]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على أبي بردة اختلافًا كثيرًا في الإسناد والمتن، وذكرنا ذلك في الرواية السالفة برقم (157)» [ترقيم الرساله 7841] [ترقيم الشركة 7748] [ترقيم العلميه 7649]
الحكم على الحديث: حديث ضعيف لاضطرابه
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7841 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على أبي بردة اختلافًا كثيرًا في الإسناد والمتن، وذكرنا ذلك في الرواية السالفة برقم (157).
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ "اضطراب" (سند و متن میں تضاد) ہے، کیونکہ ابو بردہ سے اس کی روایت میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے، جس کی تفصیل نمبر 157 پر گزر چکی ہے۔
وهو في "الدعاء" لمحمد بن فضيل بن غزوان الضبي برقم (12).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت محمد بن فضیل بن غزوان الضبی کی کتاب "الدعاء" میں نمبر 12 پر موجود ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7841 in Urdu