المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. استغفار أعرابي للنبي - صلى الله عليه وآله وسلم - .
ایک اعرابی (دیہاتی) کا نبی کریم ﷺ سے اپنے لیے استغفار کی درخواست کرنا
حدیث نمبر: 7847
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حَدَّثَنَا محمد بن شعيب بن شابُور، حَدَّثَنَا محمد بن [أبي] مسلم [عن أبيه] (3) عن عطاء بن أبي رباح، عن أبي هريرة: أن فتًى من أبناء المهاجرين أتى رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، استغفِرْ لي، فتشاغلَ عنه رسولُ الله ﷺ، فردَّدَ ذلك على رسول الله ﷺ ثلاثَ مرّات، فلما رأى أنَّ رسول الله ﷺ لا يَستغفرُ له، قال الفتى بينَ يدي رسولِ الله ﷺ ثلاث مرّات: اللهمَّ اغْفِرْ لي، اللهمَّ اغْفِرْ لي، اللهمَّ اغْفِرْ لي، فإنَّ رسولَكَ لم يَستغفِرْ لي، فلما انصرفَ الفتى نزلَ جبريل ﵇ إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، هلَّا استغفرتَ للفتى، فإنَّ الله قد غَفَرَ له، فالحَقْه حتَّى تُعلِمَه أنَّ الله قد غَفَرَ له، وقُل له يَستغفِرْ لك، فأحضرَ رسولُ الله ﷺ في أَثَره حتَّى لَحِقَه، فلمَّا لحِقَه قال:"يا فتى، إنَّ الله ﷿ قد غَفَرَ لك، فاستغفِرْ لي" فقال الفتى: اللهم أستغفِرُكَ لرسولِك، اللهمَّ إني أستغفرُك لرسولِك ونبيِّك كما غفرتَ لي، إنَّك واسعُ المغفرة، وأنت أرحمُ الراحمين (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین کے بیٹوں میں سے ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مصروف تھے، اس نے تین بار اپنی بات دہرائی، جب اس نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے استغفار نہیں فرما رہے تو اس نوجوان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین بار یہ کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، فَإِنَّ رَسُولَكَ لَمْ يَسْتَغْفِرْ لِي» ”اے اللہ! مجھے معاف فرما دے، اے اللہ! مجھے معاف فرما دے، اے اللہ! مجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے رسول نے میرے لیے مغفرت کی دعا نہیں فرمائی“، جب وہ نوجوان چلا گیا تو جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نازل ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس نوجوان کے لیے استغفار کیوں نہ کیا؟ اللہ نے تو اسے معاف فرما دیا ہے، پس آپ اس کے پیچھے جائیں یہاں تک کہ اسے بتا دیں کہ اللہ نے اسے معاف کر دیا ہے اور اسے کہیں کہ وہ آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پیچھے تیزی سے تشریف لے گئے یہاں تک کہ اسے پا لیا، جب اسے ملے تو فرمایا: ”اے نوجوان! بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں معاف فرما دیا ہے، اب تم میرے لیے مغفرت کی دعا کرو“، تو اس نوجوان نے کہا: «اللَّهُمَّ أَسْتَغْفِرُكَ لِرَسُولِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِرَسُولِكَ وَنَبِيِّكَ كَمَا غَفَرْتَ لِي، إِنَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ، وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ”اے اللہ! میں تیرے رسول کے لیے تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں، اے اللہ! میں تیرے رسول اور تیرے نبی کے لیے تجھ سے مغفرت کا طلبگار ہوں جیسے تو نے مجھے معاف فرمایا، بے شک تو وسیع مغفرت والا اور سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7847]
تخریج الحدیث: «باطل منكر، وهذا إسناد فيه محمد بن أبي مسلم مجهول كما قال المصنّف، وذكره الحافظ ابن حجر في "اللسان" وقال عنه: جاء في إسناد بمتن يتبيَّن بطلانه من سياقه، قلنا: وأبوه كذلك لا يعرف، ولم نقف على أحد خرَّجه غير الحاكم» [ترقيم الرساله 7847] [ترقيم الشركة 7754]
الحكم على الحديث: باطل منكر
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7847 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في النسخ: محمد بن مسلم عن عطاء بن أبي رباح، وجاء على الصواب في "تلخيص الذهبي" و "إتحاف المهرة" (19532).
🔍 فنی نکتہ / علّت: عام نسخوں میں "محمد بن مسلم عن عطاء بن ابی رباح" درج ہے، جبکہ "تلخیص الذہبی" اور "اتحاف المہرہ" (19532) میں یہ درست نام کے ساتھ مذکور ہے۔
(1) باطل منكر، وهذا إسناد فيه محمد بن أبي مسلم مجهول كما قال المصنّف، وذكره الحافظ ابن حجر في "اللسان" وقال عنه: جاء في إسناد بمتن يتبيَّن بطلانه من سياقه، قلنا: وأبوه كذلك لا يعرف، ولم نقف على أحد خرَّجه غير الحاكم. وانظر ما بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "باطل اور منکر" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں محمد بن ابی مسلم "مجہول" راوی ہے جیسا کہ مصنف نے صراحت کی ہے۔ حافظ ابن حجر نے "لسان المیزان" میں اس کا ذکر کر کے فرمایا ہے کہ اس کا متن اپنے سیاق و سباق سے ہی باطل معلوم ہوتا ہے۔ اس کا باپ (ابو مسلم) بھی نامعلوم ہے اور امام حاکم کے علاوہ کسی نے اس کی تخریج نہیں کی۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7847 in Urdu