🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. ذكر ما اختاره فقهاء أهل الكوفة فى جواب العاطس .
چھینک کے جواب میں فقہائے کوفہ کے پسندیدہ کلمات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7891
حدَّثَناه الأستاذ أبو الوليد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن علي، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى. قال (2) : وحدثنا محمد بن نُعيم، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم؛ قالا: أخبرنا جَرير، عن منصور، عن هِلال بن يِساف قال: كنَّا مع سالم بن عُبيد في سَفَر، فعَطَسَ رجلٌ من القوم، فقال: السلامُ عليكم، فقال سالمٌ: السلامُ عليك وعلى أُمِّك، ثم قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إذا عَطَسَ أحدُكم فلَيحمَدِ الله، وليقُلْ مَن عندَه: يَرحمُك الله، وليرُدَّ عليهم: يَغْفِرُ الله لنا ولكم" (3) . الوهمُ في رواية جرير هذه ظاهرٌ، فإنَّ هلال بن يِساف لم يُدرِكْ سالمَ بن عبيد ولم يَرَه، وبينهما رجلٌ مجهول، فأما اللفظ الذي وقع لبعض الفقهاء الذي لا يُميِّز بين صحيح الأخبار وسَقِيمها في أمر النَّبِيِّ ﷺ الله العاطسَ أن يقول للمُشمَّت: يَهدِيكم الله ويُصلِحُ بالَكم، فيُوهِمُ أنَّ هذا التشميت لأهل الكتاب دون المسلمين:
جریر نے منصور سے روایت کیا ہے کہ ہلال بن یساف فرماتے ہیں: ہم سیدنا سالم بن عبید کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، ایک آدمی کو چھینک آ گئی، اس نے کہا: السلام علیکم۔ سیدنا سالم نے جواباً کہا السلام علیک و علیٰ امک پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہے، اور جو اس کے قریب لوگ ہوں، وہ یرحمک اللہ کہیں۔ اور چھینکنے والا کہے یغفر اللہ لنا و لکم ۔ ٭٭ جریر کی روایت میں وہم بالکل واضح ہے کیونکہ ہلال بن یساف نے سیدنا سالم بن عبید کا زمانہ نہیں پایا اور نہ ہلال بن یساف نے ان کو دیکھا ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان ایک مجہول راوی ہے۔ بعض فقہاء کی روایات میں کچھ ایسے الفاظ وارد ہیں، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھینکنے والے کے لیے حکم فرمایا ہے کہ وہ یہدیکم اللہ و یصلح بالکم کہے۔ یہ الفاظ اخبار صحیحہ اور سقیمہ میں کوئی امتیاز نہیں کرتے۔ اس سے ایک وہم یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ الفاظ یہدیکم اللہ و یصلح بالکم اہل کتاب کی چھینک کا جواب ہے، مسلمان کا نہیں۔ (کیونکہ مسلمان تو پہلے سے ہدایت یافتہ ہوتا ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7891]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7891 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) القائل هو الأستاذ أبو الوليد شيخ الحاكم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں کلام کرنے والے "الاستاذ ابو الولید" ہیں جو کہ امام حاکم کے شیوخ میں سے ہیں۔
(3) إسناده ضعيف كسابقيه. وقد أشار المصنّف عقبه بن إلى وهم جرير - وهو ابن عبد الحميد - فيه حيث أسقط الواسطة بين هلال بن يساف وسالم بن عبيد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند گزشتہ روایات کی طرح "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف نے اس کے بعد جریر بن عبد الحمید کے "وہم" (سہو) کی طرف اشارہ کیا ہے، کیونکہ انہوں نے ہلال بن یساف اور سالم بن عبید کے درمیان موجود واسطے کو گرا (حذف کر) دیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (5031)، والنسائي (9982) من طريقين عن جرير بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود (5031) اور امام نسائی (9982) نے جریر بن عبد الحمید کے دو مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وتابع جريرًا على إسقاط الواسطة إسرائيل بن يونس السبيعي، فأخرجه من طريقه النسائي (9983) وابن حبان (599) عن منصور، عن هلال بن يساف، عن سالم بن عبيد.
🧩 متابعات و شواہد: واسطہ گرا دینے میں اسرائیل بن یونس السبیعی نے جریر کی متابعت کی ہے، چنانچہ امام نسائی (9983) اور امام ابن حبان (599) نے ان کے طریق سے منصور بن المعتمر عن ہلال بن یساف عن سالم بن عبید کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔