المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. تفاؤل النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - بالأسماء
نبی کریم ﷺ کا ناموں سے اچھا شگون (فال) لینا
حدیث نمبر: 7922
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضّل، حدثنا بشير بن ميمون، عن عمه أسامة بن أَخدري: أنَّ رجلًا من بني شَقِرة يُقال له: أَصرَمُ، كان في النَّفر الذين أتَوُا النبيَّ ﷺ، فأتاه بغلامٍ له حَبَشي اشتراه بتلك البلاد، فقال: يا رسولَ الله، إنّي اشتريتُ هذا، فأحببتُ أن تُسمِّيَه وتدعوَ له بالبَرَكة، قال:"ما اسمُك؟" قال: أصرَمُ، قال:"أنت زُرْعةُ، فما تريدُ؟" قال: أَسْمِ هذا الغلامَ، قال:"فهو عاصمٌ"، وقَبَضَ كفَّه (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7729 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7729 - صحيح
سیدنا اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی شقرہ کا ایک آدمی جس کا نام ” اصرم “ تھا، وہ ان لوگوں میں شامل تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے، اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا ایک غلام پیش کیا جو اس نے اس علاقے سے خریدا تھا، اس نے بتایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ خریدا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کا نام بھی رکھیں اور اس کے لیے برکت کی دعا بھی فرمائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: اصرم۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ” زرعہ “ ہو، تمہارا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اس بچے کا نام۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ” عاصم “ ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7922]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7922 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل بشير بن ميمون.
⚖️ درجۂ حدیث: بشیر بن میمون کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (4954) عن مسدد بن مسرهد، بهذا الإسناد مختصرًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4954) نے مسدد بن مسرہد کے طریق سے اسی سند کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے۔
قال الخطّابي: إنما غير اسم الأصرم لما فيه من معنى الصَّرم، وهو القطيعة، يقال: صرمتُ الحبل: إذا قطعتَه، وصرمتُ النخلة: إذا جَدَدتَ ثمرها. وإنما غيَّره لأنَّ فيه إيهام انقطاع الخير والبركة، وزُرْعة مشعرٌ بهما، لأنه من الزراعة، ويحصل بها الخير والبركة.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام خطابی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے 'اصرم' کا نام اس لیے تبدیل کیا کیونکہ اس میں 'صرم' یعنی قطع کرنے (کاٹنے) کا معنی پایا جاتا ہے۔ جب رسی کاٹ دی جائے تو کہتے ہیں 'صرمت الحبل' اور جب کھجور کا پھل توڑ لیا جائے تو کہتے ہیں 'صرمت النخلة'۔ 📌 اہم نکتہ: یہ نام اس لیے بدلا گیا کیونکہ اس میں خیر و برکت کے انقطاع (ختم ہونے) کا وہم ہوتا ہے، جبکہ 'زرعہ' کا نام ان دونوں (خیر و برکت) کی علامت ہے کیونکہ یہ 'زراعت' سے ہے جس سے برکت حاصل ہوتی ہے۔