🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. تفاؤل النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - بالأسماء
نبی کریم ﷺ کا ناموں سے اچھا شگون (فال) لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7923
أخبرنا أبو بكر بن قُريش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو الربيع الزَّهراني، حدثنا أبو قُتَيبة سَلْم بن قُتيبة، حدثنا حَمَل بن بَشير بن أبي حَدْرَد، حدثني، عمِّي، عن أبي حَدْرَد، أن النبيَّ ﷺ قال: مَن يَسُوقُ إبلنا هذه؟" فقام رجلٌ فقال: أنا، فقال:"ما اسمُك؟" قال: فلان قال:"اجلِسْ"، ثم قام آخرُ فقال: أنا، فقال:"ما اسمُك؟" قال: فلان، قال:"اجلِسْ"، ثم قام آخرُ فقال: أنا، فقال:"ما اسمُك؟" قال: ناجيَةُ، قال:"أنت لها فسُقْها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7730 - صحيح
سیدنا ابوحدرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے یہ اونٹ کون چرائے گا؟ ایک آدمی نے کہا: میں چراؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا نام بتایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ، پھر ایک اور آدمی اٹھا، اس نے کہا: میں چراؤں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام پوچھا، اس نے اپنا نام بتایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی بٹھا دیا، پھر ایک اور آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے خود کو پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام پوچھا، اس نے اپنا نام ناجیہ بتایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ چرانے کی ذمہ داری اس کے سپرد فرما دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7923]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7923 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لجهالة حَمَل بن بشير ولإبهام عمه.
⚖️ درجۂ حدیث: حمل بن بشیر کے مجہول ہونے اور ان کے چچا کے مبہم ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد" (812)، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني" (2370)، والروياني في مسنده (1479)، والطبراني في "الكبير" 22/ (886) من طريق محمد بن المثنى، عن سلم بن قتيبة بهذا الإسناد. وقرن ابن أبي عاصم بمحمد بن المثنى عقبةَ بن مكرم. ووقع في بعض هذه المصادر تحريفات.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "الادب المفرد" (812)، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (2370)، رویانی نے "مسند" (1479) اور طبرانی نے "الکبیر" (22/ 886) میں محمد بن مثنیٰ عن سلم بن قتیبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ ابن ابی عاصم نے محمد بن مثنیٰ کے ساتھ عقبہ بن مکرم کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان میں سے بعض مصادر میں کچھ تحریفات واقع ہوئی ہیں۔