المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. النهي عن الخذف .
کنکریاں پھینکنے (خَذف) کی ممانعت
حدیث نمبر: 7951
ما حدَّثَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنَافسي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن هِلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن عمرو قال: كُنَّا نحن حولَ رسول الله ﷺ جلوسًا، إذ ذَكَر الفتنةَ - أو ذُكرَتْ عندَه - فقال رسول الله ﷺ:"إذا رأيتَ الناسَ قد مَرِجَتْ عهودُهم، وخفَّتْ أماناتُهم، وكانوا هكذا" وشبَّك بين أناملِه، فقمتُ إليه، فقلتُ: كيف أفعلُ يا رسولَ الله، جعلني الله فِدَاك؟ قال:"الزَمْ بيتَك، واملِكْ عليك لسانَك، وخُذْ ما تَعرِفُ، ودَعْ ما تُنكِرُ، وعليك بخاصَّة أمر نفسك، ودَعْ عنك أمرَ العامَّة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7758 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7758 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کا ذکر کیا یا شاید آپ کے پاس کسی نے فتنہ کا ذکر کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ لوگ وعدہ کی پاسداری نہیں کرتے، اور امانتوں کو ہلکا جانتے ہیں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈال کر اشارہ کر کے فرمایا: اور لوگ یوں ہو جائیں گے۔ میں اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، ان حالات میں، مجھے کیا کرنا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر میں بیٹھے رہنا، اپنی زبان کو روک کر رکھنا، جو چیز جانتے ہو، اس پر عمل کر لینا، جس چیز کو برا جانتے ہو، اس کو چھوڑ دینا، تم پر اپنا معاملہ سنبھال لینا اور دیگر لوگوں کا معاملہ چھوڑ دینا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7951]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7951 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ 6987)، وأبو داود (4343)، والنسائي (9962) من طرق عن يونس بن أبي إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 11/ (6987)، ابو داؤد (4343) اور نسائی (9962) نے یونس بن ابی اسحاق کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق يونس بن أبي إسحاق برقم (8813)، وسلف من طريق عمارة بن حزم عن عبد الله بن عمرو برقم (2704).
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے یونس بن ابی اسحاق کے طریق سے رقم (8813) پر آئے گی، اور پہلے عمارہ بن حزم عن عبد اللہ بن عمرو کی سند سے رقم (2704) پر گزر چکی ہے۔