المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. إباحة قول الناس جعلت فداك وما يشبهه .
لوگوں کے اس قول "میں آپ پر فدا ہوں" اور اس جیسے دیگر کلمات کہنے کا جواز
حدیث نمبر: 7951
ما حدَّثَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنَافسي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن هِلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن عمرو قال: كُنَّا نحن حولَ رسول الله ﷺ جلوسًا، إذ ذَكَر الفتنةَ - أو ذُكرَتْ عندَه - فقال رسول الله ﷺ:"إذا رأيتَ الناسَ قد مَرِجَتْ عهودُهم، وخفَّتْ أماناتُهم، وكانوا هكذا" وشبَّك بين أناملِه، فقمتُ إليه، فقلتُ: كيف أفعلُ يا رسولَ الله، جعلني الله فِدَاك؟ قال:"الزَمْ بيتَك، واملِكْ عليك لسانَك، وخُذْ ما تَعرِفُ، ودَعْ ما تُنكِرُ، وعليك بخاصَّة أمر نفسك، ودَعْ عنك أمرَ العامَّة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7758 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7758 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے تھے کہ فتنوں کا ذکر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد و پیمان بگڑ گئے ہیں، ان کی امانتیں ہلکی ہو گئی ہیں اور وہ ایسے ہو گئے ہیں“ (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا)۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کیا کروں، اللہ مجھے آپ پر فدا کرے؟ فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑو، اپنی زبان پر قابو رکھو، جو معروف ہو اسے لے لو، جو منکر ہو اسے چھوڑ دو، اپنے خاص معاملے کی فکر کرو اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7951]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7951]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7951] [ترقيم الشركة 7857] [ترقيم العلميه 7758]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7951 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ 6987)، وأبو داود (4343)، والنسائي (9962) من طرق عن يونس بن أبي إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 11/ (6987)، ابو داؤد (4343) اور نسائی (9962) نے یونس بن ابی اسحاق کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق يونس بن أبي إسحاق برقم (8813)، وسلف من طريق عمارة بن حزم عن عبد الله بن عمرو برقم (2704).
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے یونس بن ابی اسحاق کے طریق سے رقم (8813) پر آئے گی، اور پہلے عمارہ بن حزم عن عبد اللہ بن عمرو کی سند سے رقم (2704) پر گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7951 in Urdu