المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. لا تبيتن النار فى بيوتكم .
اپنے گھروں میں آگ جلتی ہوئی چھوڑ کر نہ سویا کرو
حدیث نمبر: 7958
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُزاعي بمكة حرسها الله، حدثنا أبو يحيى بن أبي مسرَّة، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني ابن الهادِ، أنَّ نافعًا حدّثه عن عبد الله بن عمر، أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"لا تُبيِّتُنَّ النارَ في بيوتِكم فإنَّها عدوٌّ". فما كان ابن عمر يَرقُدُ حتى لا يدع في البيت نارًا إلَّا أطفأَها، وكان آخرَ أهل البيت رُقَادًا، كان يُصلِّي فإذا فَرَغَ لَم يَنَمْ حتى يُطفئَ السِّراجَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7765 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7765 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آگ کو اپنے گھر میں رات مت گزارنے دو کیونکہ یہ تمہاری دشمن ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ سونے سے پہلے گھر میں آگ بجھا دیا کرتے تھے۔ آپ اپنے گھر میں سب سے آخر میں سویا کرتے تھے، آپ نماز میں مشغول ہوتے تھے، جب نماز سے فارغ ہوتے تو سونے سے پہلے چراغ گل کر دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7958]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7958 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو يحيى بن أبي مسرة: اسمه عبد الله بن أحمد بن زكريا. وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد" (1226) عن سعيد بن أبي مريم، عن نافع بن يزيد بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو یحییٰ بن ابی مسرہ کا نام عبد اللہ بن احمد بن زکریا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "الادب المفرد" (1226) میں سعید بن ابی مریم عن نافع بن یزید کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 9/ (5641) من طريق سعيد بن أبي أيوب، عن يزيد بن الهاد، به. ووقع بهذا الإسناد عند البخاري في الأدب المفرد (1225) إلّا أنه جعله من حديث عبد الله بن عمر عن عمر من قوله، ولم يرفعه. وفيه نظرٌ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 9/ (5641) نے سعید بن ابی ایوب عن یزید بن الہاد کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "الادب المفرد" (1225) میں یہی سند موجود ہے مگر وہاں اسے ابن عمر کا قول (موقوف) بنا دیا گیا ہے کہ یہ حضرت عمر کا قول ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا گیا، جو کہ محلِ نظر ہے۔
وأخرجه أحمد 9/ (5396) من طريق ابن لهيعة، عن يزيد بن الهاد عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر. فجعل مكان نافع عبد الله بن دينار، وهذا من سوء حفظ ابن لهيعة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام احمد 9/ (5396) کی ابن لہيہ سے مروی روایت میں "نافع" کی جگہ "عبد اللہ بن دینار" کا ذکر ہے، جو کہ ابن لہيہ کے خراب حافظے کا نتیجہ ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 8/ (4515) و (4546) و 9 (5028)، والبخاري (6293)، ومسلم (2015)، وأبو داود (5246)، وابن ماجه (3769)، والترمذي (1813) من طريق سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی کے ہم معنی امام احمد، بخاری (6293)، مسلم (2015)، ابو داؤد (5246)، ابن ماجہ (3769) اور ترمذی (1813) نے سالم بن عبد اللہ کے طریق سے اپنے والد (ابن عمر) سے روایت کیا ہے۔