🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. الدعاء عند رؤية الهلال .
نیا چاند دیکھنے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7960
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني العدل، حدثنا أحمد بن زياد بن مِهْران، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا سليمان بن سفيان المَديني، حدثني بلال بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله، عن أبيه، عن جده: أن النبيَّ ﷺ كان إذا رأى الهِلالَ قال:"اللهمَّ أَهِلَّه علينا باليُمْن والإيمان، والسَّلامةِ والإسلام، ربِّي وربُّك اللهُ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7767 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
بلال بن یحیی بن طلحہ بن عبیداللہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تو یہ دعا مانگتے اللَّهُمَّ أَهْلَّهُ عَلَيْنَا بِالْاَمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَالإِسْلاَمِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ یا اللہ اس کو ہمارے لئے امن، ایمان، سلامتی اور اسلام والا بنا، میرا اور تیرا رب اللہ ہے [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7960]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7960 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذ إسناد ضعيف، سليمان بن سفيان المدني وشيخه بلال بن يحيى ضعيفان. وأخرجه أحمد (1397)، والترمذي (3451) من طريق أبي عامر العقدي، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: حسن لغیرہ۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند ضعیف ہے، اس کے راوی سلیمان بن سفیان مدنی اور ان کے شیخ بلال بن يحيىٰ دونوں ضعیف ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد (1397) اور امام ترمذی (3451) نے ابو عامر عقدی کے طریق سے اسی مذکورہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حسن غريب.
📌 اہم نکتہ: امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ "حسن غریب" ہے۔
وفي الباب عن ابن عمر عند الدارمي (1729)، وابن حبان (888)، وفي سنده عبد الرحمن بن عثمان ضعفه أبو حاتم، وذكره ابن حبان في "ثقاته". وأبوه عثمان روى عنه غير واحد، وقال أبو حاتم: شيخ يكتب حديثه، وذكره ابن حبان في "ثقاته".
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی روایت سنن دارمی (1729) اور صحیح ابن حبان (888) میں موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں عبد الرحمن بن عثمان نامی راوی ہے جسے امام ابو حاتم نے ضعیف قرار دیا، جبکہ ابن حبان نے اسے اپنی کتاب "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ ان کے والد عثمان سے کئی راویوں نے روایت لی ہے، ان کے بارے میں ابو حاتم کا قول ہے کہ وہ "شیخ" ہیں جن کی حدیث لکھی جاتی ہے، اور ابن حبان نے انہیں بھی "الثقات" میں جگہ دی ہے۔
وعن عثمان بن أبي عاتكة عن شيخ من أشياخهم رفعه إلى النبي ﷺ، عند ابن السُّني في "عمل اليوم والليلة" (646)، ورواه أبو نعيم في معرفة الصحابة" (2310) فسمى الشيخ زيادًا. وقال زياد عقبه: توالي على هذا الدعاء ستة من أصحاب رسول الله ﷺ سمعوه منه. وزياد لم نعرفه.
🧩 متابعات و شواہد: عثمان بن ابی عاتکہ نے اپنے ایک شیخ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، جو ابن السنی کی "عمل الیوم واللیلہ" (646) میں درج ہے۔ اسے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (2310) میں روایت کرتے ہوئے اس شیخ کا نام "زیاد" بتایا ہے۔ زیاد نے اس روایت کے بعد کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے چھ صحابہ نے مسلسل یہ دعا پڑھی جنہوں نے اسے براہِ راست آپ ﷺ سے سنا تھا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "زیاد" کی شناخت نہیں ہوسکی (یعنی وہ مجہول ہے)۔
وعن علي قال: إذا رأى أحدكم الهلال فلا يرفع به رأسه، إنما يكفي أن يقول: ربي وربك الله. أخرجه ابن أبي شيبة 3/ 98، ورجاله ثقات غير عبيد بن عمرو - وهو الخارفي قال ابن سعد: كان معروفًا قليل الحديث.
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: "جب تم میں سے کوئی چاند دیکھے تو اس کی طرف (زیادہ) سر نہ اٹھائے، بلکہ صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ 'میرا اور تمہارا رب اللہ ہے'"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (3/ 98) نے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے تمام رجال ثقہ ہیں سوائے عبید بن عمرو الخارفی کے، جن کے بارے میں ابن سعد کا کہنا ہے کہ وہ معروف تو تھے لیکن ان سے مروی احادیث کم ہیں۔