🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. الأحاديث المنذرة عن يمين كاذبة
جھوٹی قسم کھانے پر ڈرانے والی احادیث کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7995
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا شُعبة، قال: سمعتُ عِيَاضًا أبا خالد يقول: رأيتُ رجلينِ (2) يختصمانِ عند مَعقِل بن يسار، فقال مَعقِلٌ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن حَلَفَ على يمينٍ ليَقطَعَ بها مالَ رجلٍ، لقي الله تعالى وهو عليه غضبانُ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7801 - صحيح
ابوخالد عیاض فرماتے ہیں: میں نے دو آدمیوں کو سیدنا معقل بن یسار کے پاس جھگڑتے ہوئے دیکھا۔ سیدنا معقل نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی کا مال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم کھائی، وہ جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 7995]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7995 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية: رجلان وهو خطأ.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں "رجلان" لکھا ہوا ہے جو کہ (نحوی طور پر) غلط ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، عياض أبو خالد - وهو البجلي - تابعي، وقد تفرّد بالرواية عنه شعبة، لذلك قال ابن المديني: مجهول، بينما ذكره ابن حبان في "ثقاته" لأنه لم يجد فيه جرحًا، وقد توبع كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ عیاض ابو خالد (البجلی) تابعی ہیں، ان سے روایت کرنے میں امام شعبہ منفرد ہیں۔ اسی بنا پر امام ابن المدینی نے انہیں "مجہول" قرار دیا، جبکہ امام ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" میں اس لیے ذکر کیا کیونکہ انہیں ان میں کوئی جرح نہیں ملی۔ 🧩 متابعات و شواہد: ان کی متابعت بھی ثابت ہے جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔
وأخرجه أحمد 33/ (20292) و (20295)، والنسائي (5976) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. وذكر أحمد فيه قصة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند (20292 اور 20295) میں اور امام نسائی (5976) نے شعبہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام احمد نے اس روایت میں ایک قصہ بھی ذکر کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود الطيالسي (975) من طريق معاوية بن قرة، عن معقل بن يسار. وسنده جيّد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد طیالسی (975) نے معاویہ بن قرہ کے طریق سے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "جید" (بہتر) ہے۔