المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. الأحاديث المنذرة عن يمين كاذبة
جھوٹی قسم کھانے پر ڈرانے والی احادیث کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7994
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن سنان القزَّاز، حدثنا عبد الله بن حُمْران، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن ثَعلبة: أنه أتى عبد الرحمن بن كعب بن مالك وهو في إزارٍ جَرْدٍ وطاقٍ خَلَقٍ قد الْتبَبَ به وهو أعمى يُقاد، قال: فسلَّمتُ عليه فقال: مَن هذا؟ قلت: عبد الله بن ثَعلَبة، قال: أخو بني حارثة؟ قلت: نعم، قال: وخَتَنُ جُهَينة؟ قلت: نعم، قال: هل سمعتَ أباك يُحدِّث بحديث سمعتَه يُحدِّث به عن النبيِّ ﷺ؟ قال: لا أدري، قال: سمعتَ أباك يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن اقتَطَعَ مالَ امرئٍ مُسلم بيمينٍ كاذبةٍ، كانت نكتةٌ سوداءُ في قلبه لا يُغيِّرُها شيءٌ إلى يوم القيامة"؟ قلت: لا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الأعمش ومنصور عن أبي وائل عن عبد الله بلَفْظي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7800 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الأعمش ومنصور عن أبي وائل عن عبد الله بلَفْظي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7800 - صحيح
عبداللہ بن ثعلبہ بیان کرتے ہین: وہ سیدنا عبدالرحمن بن کعب بن مالک کے پاس آئے، اس وقت وہ صرف تہبند باندھے ہوئے تھے، عبداللہ بن ثعلبہ نے گھر کی پچھلی جانب کا چکر لگایا، تو عبدالرحمن بن کعب بن مالک وہاں بیٹھے ہوئے تھے، آپ نابینا تھے، ان کو کوئی دوسرا شخص لے کر آتا تھا، میں نے ان کو سلام کیا۔ انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: عبداللہ بن ثعلبہ۔ انہوں نے کہا: بنی حارثہ کا بھائی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اور جہینہ کا داماد؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تم نے اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے تمہارے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لیا، اس کی وجہ سے اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جائے گا، جو کہ قیامت تک مٹ نہیں سکے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسنا د کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اعمش اور منصور کی حدیث ابووائل کے واسطے سے عبداللہ سے انہی الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 7994]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7994 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن من أجل عبد الله بن ثعلبة: وهو عبد الله بن أبي أمامة بن ثعلبة، نُسب إلى جدّه، ومحمد بن سنان القزاز - وإن كان فيه لِين - متابَع. وأبو أمامة صحابيُّ الحديث، قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة": اسمه عند الأكثر إياس، وقيل: اسمه عبد الله، وبه جزم أحمد بن حنبل، وقيل: ثعلبة بن سهيل وقيل: ابن عبد الرحمن قال أبو عمر - يعني ابن عبد البر -: ولا يصح غير إياس، وهو أنصاري حليف لبني حارثة.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ عبد اللہ بن ثعلبہ (جو کہ عبد اللہ بن ابی امامہ بن ثعلبہ ہیں اور اپنے دادا کی طرف منسوب ہیں) کی وجہ سے حسن ہے، نیز محمد بن سنان القزاز کے حافظے میں کچھ کمزوری ہے لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس حدیث کے صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ ہیں؛ حافظ ابن حجر "الاصابہ" میں لکھتے ہیں کہ اکثر کے نزدیک ان کا نام ایاس ہے، جبکہ امام احمد نے ان کا نام عبد اللہ ہونے پر یقین ظاہر کیا ہے، اور بعض نے ثعلبہ بن سہیل بھی کہا ہے۔ علامہ ابن عبد البر فرماتے ہیں کہ "ایاس" کے علاوہ کوئی نام صحیح نہیں، وہ انصاری اور بنو حارثہ کے حلیف ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (801)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1388) من طريق أحمد بن عاصم العباداني وأبو أحمد الحاكم في "الأسامي والكنى" 2/ 12 من طريق محمد بن بشار، كلاهما عن عبد الله بن حمران، بهذا الإسناد. وبيّنوا فيه أن عبد الرحمن بن كعب سمعه من أبي أمامة والد عبد الله بن ثعلبة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (801) اور ابو نعیم (1388) نے احمد بن عاصم العبادانی کے طریق سے، اور ابو احمد حاکم نے "الاسامی والکنی" (2/ 12) میں محمد بن بشار کے طریق سے عبد اللہ بن حمران کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان روایات میں یہ صراحت ہے کہ عبد الرحمن بن کعب نے اسے عبد اللہ بن ثعلبہ کے والد حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔
وأخرجه الحارث بن أبي أسامة (457 - بغية الباحث) عن محمد بن عمر الواقدي، وابن قانع في "معجم الصحابة" 1/ 121، والطبراني (1383)، وأبو نعيم (1387) من طريق خالد بن الحارث، كلاهما عن عبد الحميد بن جعفر به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ (بغیہ الباحث: 457) نے محمد بن عمر واقدی سے، اور ابن قانع نے "معجم الصحابہ" (1/ 121)، طبرانی (1383) اور ابو نعیم (1387) نے خالد بن الحارث کے طریق سے عبد الحمید بن جعفر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (8002).
📌 اہم نکتہ: اس موضوع پر مزید تفصیل آگے آنے والی حدیث نمبر (8002) میں ملاحظہ فرمائیں۔
(1) كذا في النسخ الخطية، ولفظ "الصحيحين" كلفظ الحديث التالي، وليس كلفظ هذا الحديث.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں اسی طرح (لفظ) موجود ہے، تاہم "صحیحین" (بخاری و مسلم) کے الفاظ اگلی حدیث کے الفاظ کی طرح ہیں، اس زیرِ بحث حدیث کے الفاظ کی طرح نہیں ہیں۔