المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. الأنبياء أشد بلاء ثم الصالحون
انبیاء علیہم السلام پر سب سے سخت آزمائش آتی ہے، پھر نیک لوگوں پر
حدیث نمبر: 8045
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا بشر بن موسى، حدثنا خالد بن خِدَاش بن عَجْلان المُهلَّبي، حدثنا عبد الله بن وهب، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: دخلتُ على النبيِّ ﷺ وهو محمومٌ، فوضعت يدي من فوقَ القَطِيفة، فوجدتُ حرارةَ الحُمَّى، فقلت: ما أَشدَّ حُمَّاك يا رسولَ الله! قال:"إِنَّا كذاكَ معشرَ الأنبياء، يُضاعَفُ علينا الوجعُ ليُضاعَفَ لنا الأجرُ" قال: فقلتُ: يا رسولَ الله، أيُّ الناس أشدُّ بلاء؟ قال:"الأنبياءُ" قلتُ: ثم مَن؟ قال:"ثمَّ الصالحون، إنْ كان الرجلُ لَيُبتَلى [بالفقر حتى (1) ، ما يجدُ إِلَّا العَبَاءةَ فيَجُوبُها ويَلْبَسُها، وإن كان أحدُهم لَيُبتَلى] بالقَمْل حتى يقتلَه القملُ، وكان ذلك أحبَّ إليهم من العَطاءِ إليكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7848 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7848 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا، میں نے اپنا ہاتھ کمبل کے اوپر رکھا تو مجھے بخار کی تپش محسوس ہوئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو کتنا شدید بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت کا حال ایسا ہی ہوتا ہے، ہم پر تکلیف و بیماری دوگنی کر دی جاتی ہے تاکہ ہمارے لیے اجر و ثواب بھی دوگنا کر دیا جائے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کی“، میں نے عرض کی: پھر کن کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر نیک لوگوں کی، بلاشبہ (پچھلی امتوں میں) کسی شخص کو فقر و فاقہ کے ذریعے آزمایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے ایک کمبل کے سوا کچھ میسر نہ ہوتا جسے وہ پھاڑ کر (بجائے لباس کے) پہن لیتا، اور ان میں سے کوئی جوؤں کے ذریعے آزمایا جاتا یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دیتیں، اور ان بزرگوں کو آزمائش و بلا (اس قدر) پسند تھی جتنا تمہیں مال و عطا پسند ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8045]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8045]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل هشام بن سعد، كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (120)» [ترقيم الرساله 8045] [ترقيم الشركة 7947] [ترقيم العلميه 7848]
الحكم على الحديث: إسناده حسن إن شاء الله من أجل هشام بن سعد
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8045 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين أثبتناه من الطبعة الهندية ومن مصدر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: مربع بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت کو ہم نے (مستدرک حاکم کے) انڈین نسخے اور تخریج کے مصادر سے ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده حسن إن شاء الله من أجل هشام بن سعد، كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (120).
⚖️ درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے ہشام بن سعد کی وجہ سے، جیسا کہ گزشتہ روایت (رقم: 120) کے تحت اس کا بیان گزر چکا ہے۔
وأخرجه ابن أبي الدنيا في "المرض والكفارات" (1) عن خالد بن خداش، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابن ابی الدنیا نے "المرض والکفارات" (1) میں خالد بن خداش سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
يَجُوبها، أي: يقطعها ليلبسها في عنقه.
📝 نوٹ / توضیح: (عربی لفظ) "یجوبہا" کا مطلب ہے: وہ اسے کاٹتا ہے تاکہ اسے اپنے گلے میں پہن لے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8045 in Urdu