المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. إن أحب الله عبدا حماه الدنيا
جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آلودگیوں) سے بچا لیتا ہے
حدیث نمبر: 8055
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا هلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: دخلَ عمرُ بن الخطّاب على النبيِّ ﷺ وهو على حَصيرٍ قد أثَّر في جنبِه، فقال: يا رسولَ الله، لو اتَّخذتَ فِراشًا أوثَرَ من هذا، فقال:"ما لي وللدُّنيا، وما للدنيا وما لي، والذي نفسي بيدِه ما مَثَلي ومَثَلُ الدنيا إلَّا كراكبٍ سارَ في يومٍ صائفٍ، فاستظلَّ تحت شجرةٍ ساعةً من نهار، ثم راحَ وتَرَكَها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر آرام فرما رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں چٹائی کے نشانات تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کوئی آرام دہ بچھونا بنوا لیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں دنیا سے اور دنیا کو ہم سے کیا تعلق؟ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میری اور دنیا کی مثال یوں ہے جیسے کوئی مسافر سخت گرمی کے دن سفر کر رہا ہو، اور دن کے وقت کسی سایہ دار درخت کے نیچے آرام کرتا ہو پھر اس درخت کو چھوڑ کر آگے سفر شروع کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جس کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8055]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8055 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 4 / (2744)، وابن حبان (6352) من طرق عن ثابت بن يزيد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے احمد (4/2744) اور ابن حبان (6352) نے ثابت بن یزید سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "أوثر" من الوَثِير، أي: وَطِيء لين. قاله ابن الأثير.
📝 نوٹ / توضیح: آپ ﷺ کا فرمان "أوثر"، (عربی لفظ) "الوثیر" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے: نرم و گداز بستر۔ یہ بات (لغت کے امام) ابن اثیر نے کہی ہے۔