🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. إن أحب الله عبدا حماه الدنيا
جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آلودگیوں) سے بچا لیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8055
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا هلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: دخلَ عمرُ بن الخطّاب على النبيِّ ﷺ وهو على حَصيرٍ قد أثَّر في جنبِه، فقال: يا رسولَ الله، لو اتَّخذتَ فِراشًا أوثَرَ من هذا، فقال:"ما لي وللدُّنيا، وما للدنيا وما لي، والذي نفسي بيدِه ما مَثَلي ومَثَلُ الدنيا إلَّا كراكبٍ سارَ في يومٍ صائفٍ، فاستظلَّ تحت شجرةٍ ساعةً من نهار، ثم راحَ وتَرَكَها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو مبارک پر نمایاں تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کاش آپ اس سے زیادہ نرم بستر اختیار فرما لیتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا لینا دینا، اور دنیا کو مجھ سے کیا سروکار! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو گرمی کے دن میں سفر کر رہا ہو اور کسی درخت کے سائے تلے تھوڑی دیر آرام کے لیے رکے، پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8055]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8055] [ترقيم الشركة 7957] [ترقيم العلميه 7858]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8055 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 4 / (2744)، وابن حبان (6352) من طرق عن ثابت بن يزيد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے احمد (4/2744) اور ابن حبان (6352) نے ثابت بن یزید سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "أوثر" من الوَثِير، أي: وَطِيء لين. قاله ابن الأثير.
📝 نوٹ / توضیح: آپ ﷺ کا فرمان "أوثر"، (عربی لفظ) "الوثیر" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے: نرم و گداز بستر۔ یہ بات (لغت کے امام) ابن اثیر نے کہی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8055 in Urdu