المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. إِنْ أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا
جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آلودگیوں) سے بچا لیتا ہے
حدیث نمبر: 8053
أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا عبد الله بن ناجيَةَ، حدثنا عُبيد الله بن عمر، القَوَاريري، حدثنا عبدُ الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عبد الواحد بن زيد، حدثني أسلم الكوفي، عن مُرَّة، الطيِّب عن زيد بن أرقَم قال: كُنَّا مع أبي بكر الصدِّيق فدَعَا بشراب، فأُتِيَ بماء وعَسَل، فلما أدْناه من فيهِ بكى وبكى حتى أبكى أصحابَه، فسكتوا وما سكتَ، ثم عاد فبكى حتى ظنُّوا أنهم لن يَقِدروا على مسألته، قال: ثم مَسَحَ عينيه، فقالوا: يا خليفةَ رسولِ الله ما أبكاكَ؟ قال: كنتُ مع رسولَ الله ﷺ فرأيتُه يَدفَعُ عن نفسه شيئًا، ولم أرَ معه أحدًا، فقلت: يا رسولَ الله، ما الذي تَدفَعُ عن نفسِك؟ قال:"هذه الدنيا مُثِّلتْ لي، فقلت لها: إليكِ عني، ثم رَجَعَتْ، فقالت: إن أفلَتَّ مني، فلن يَنفلِتَ منّي مَن بعدَك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7856 - عبد الصمد تركه البخاري وغيره
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7856 - عبد الصمد تركه البخاري وغيره
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، آپ نے مشروب منگوایا، آپ کو پانی اور شہد پیش کیا گیا، جب انہوں نے پینے کے لیے اس کو اپنے منہ کے قریب کیا تو رونے لگے، آپ اس قدر زار و قطار روئے کہ (آپ کی اس کیفیت نے) سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی رلا دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رو رو کر چپ ہو گئے، لیکن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چپ نہ ہوئے، صحابہ کرام جان گئے کہ وہ اس کیفیت میں ان سے رونے کی وجہ نہیں پوچھ سکیں گے۔ (اس لیے وہ آپ کے خاموش ہونے کا انتظار کرتے رہے) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب اپنے آنسو صاف کیے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ، آپ آج اس قدر کیوں روئے ہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے آپ سے کسی چیز کو ہٹا رہے تھے، حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوسرا کوئی بھی نہیں تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا چیز ہے جس کو آپ خود سے دور ہٹا رہے ہیں؟ (یہ مجھے تو دکھائی نہیں دے رہی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا میرے سامنے ایک شکل میں دکھائی گئی ہے، میں نے اس سے کہا: مجھ سے دور رہ، وہ پھر لوٹ کر آئی، اور کہنے لگی: آپ مجھ سے بچ بھی گئے تو آپ کے بعد والے مجھ سے کسی صورت بھی نہیں بچ سکیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8053]
حدیث نمبر: 8054
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا محمد بن جَهْضَم، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن عُمارة بن غَزِيَّة، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبِيد، عن قَتَادةَ بن النُّعمان قال: قال رسولُ الله ﷺ:"إذا أَحَبَّ الله عبدًا، حَمَاهُ الدنيا كما يَحمِي أحدُكم مريضَه الماءَ (2) " (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7857 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7857 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے، تو اس کو دنیا سے اس طرح بچاتا ہے جیسے تم اپنے مریض کو پانی سے بچاتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8054]
حدیث نمبر: 8055
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا هلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: دخلَ عمرُ بن الخطّاب على النبيِّ ﷺ وهو على حَصيرٍ قد أثَّر في جنبِه، فقال: يا رسولَ الله، لو اتَّخذتَ فِراشًا أوثَرَ من هذا، فقال:"ما لي وللدُّنيا، وما للدنيا وما لي، والذي نفسي بيدِه ما مَثَلي ومَثَلُ الدنيا إلَّا كراكبٍ سارَ في يومٍ صائفٍ، فاستظلَّ تحت شجرةٍ ساعةً من نهار، ثم راحَ وتَرَكَها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر آرام فرما رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں چٹائی کے نشانات تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کوئی آرام دہ بچھونا بنوا لیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں دنیا سے اور دنیا کو ہم سے کیا تعلق؟ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میری اور دنیا کی مثال یوں ہے جیسے کوئی مسافر سخت گرمی کے دن سفر کر رہا ہو، اور دن کے وقت کسی سایہ دار درخت کے نیچے آرام کرتا ہو پھر اس درخت کو چھوڑ کر آگے سفر شروع کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جس کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8055]
حدیث نمبر: 8056
أخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب (2) حدثنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا المسعودي، عن عمرو بن مُرَّة، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، أن النبيَّ ﷺ قال: ما لي وللدُّنيا، مَثَلي ومَثَلُ الدنيا كَمَثَل راكبٍ قالَ في [ظلِّ] (3) شجرةِ في يومٍ صائفٍ، فراحَ وتَرَكَها (4) .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی مسافر سخت گرم موسم میں دوپہر کے وقت کسی سایہ دار درخت کے نیچے ٹھہرے اور پھر اس کو چھوڑ کر آگے چلا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8056]