🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةِ، وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةِ
دنیا کی مٹھاس آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی کڑواہٹ آخرت کی مٹھاس ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8057
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ وأبو الحسن علي بن بُنْدار الزاهد، قالا: أخبرنا أبو العبّاس محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدثنا إبراهيم بن عمرو (5) السَّكسكي، حدثنا أبي، حدثنا عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن طلبَ ما عندَ الله كانت السماءُ ظِلالَه، والأرضُ فِراشَه، لم يَهتَمَّ بشيءٍ من أمر الدنيا؛ فهو لا يَزرَعُ الزرعَ، وهو يأكلُ الخبزَ، وهو لا يَغرِسُ الشجرَ، ويأكلُ الثمار، توكُّلًا على الله تعالى، وطلبَ مَرْضاته، فضَمَّنَ الله السماواتِ السبعَ والأرضينَ السبعَ رِزقَه، فهم يَتعَبونَ فيه، ويأتُون به حلالًا، ويَستَوفي هو رزقَه بغير حسابٍ عند الله تعالى، حتى أتاه اليقين" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد للشاميين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7860 - بل منكر أو موضوع
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے وہ طلب کرے جو اس کے پاس ہے، تو آسمان اس کا سائبان ہو گا، اور زمین اس کا بچھونا ہو گی، وہ دنیا کے کسی کام کو اہمیت نہیں دے گا، وہ کھیتی نہیں اگاتا لیکن روٹی کھاتا ہے، وہ درخت نہیں اگاتا، لیکن پھل کھاتا ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرتا ہے، اور اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے ذمے اس کا رزق لگا دیتا ہے، یہ آسمان اور زمین اس کے رزق کے لیے کوشش کرتے ہیں اور اس کو حلال رزق پہنچاتے ہیں، وہ آدمی اپنا رزق پورا وصول کرتا ہے، اور جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو گا تو اس کے رزق کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث شامیین کی صحیح الاسناد حدیث ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8057]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں