المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. النهي عن الرياء
ریاکاری (دکھاوے) کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8058
أخبرنا أحمد (2) بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا أبو المغيرة، حدثنا صفوان بن عمرو، عن شُرَيح بن عُبيد: أَنَّ أبا مالك الأشعري لما حَضَرتَه الوفاةُ قال: يا معشرَ الأشعريِّين، ليبلِّغِ الشاهدُ منكم الغائبَ، أنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"حُلوة الدنيا مُرَّة الآخرة، ومُرَّة الدنيا حُلْوةُ الآخرة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7861 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7861 - صحيح
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا: اے اشعریو! جو لوگ اس وقت موجود ہیں، وہ میری بات کو ان لوگوں تک پہنچا دینا جو اس وقت موجود نہیں ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا کی مٹھاس، آخرت کی کڑواہٹ ہے۔ اور دنیا کی ترشی آخرت کی حلاوت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8058]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8058 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد الله.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبداللہ" بن گیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد روايته عن أبي مالك الأشعري منقطعة مرسلة فيما قال أبو حاتم الرازي أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، وصفوان بن عمرو: هو السكسكي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ شریح بن عبید کی ابو مالک اشعری سے روایت "منقطع و مرسل" ہے جیسا کہ ابو حاتم رازی نے فرمایا ہے۔ (سند میں موجود) ابو المغیرہ سے مراد "عبدالقدوس بن حجاج الخولانی" ہیں اور صفوان بن عمرو سے مراد "السکسکی" ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 37/ (22899).
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ حدیث "مسند احمد" (37/22899) میں موجود ہے۔