المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. الأشياء التى لا بد لابن آدم منها
وہ چیزیں جن کے بغیر ابنِ آدم کا گزارا نہیں
حدیث نمبر: 8063
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عَمْرَوَيهِ البَزّاز ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا الحسن بن موسى الأشيّب، حدثنا عُقْبة بن عبد الله الأصمّ، حدثنا عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا قال الرجلُ للمنافق: يا سيِّدُ، فقد أغضَبَ ربَّه ﵎" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7865 - عقبة بن الأصم ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7865 - عقبة بن الأصم ضعيف
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص کسی منافق کو ” یا سید “ کہہ کر بلاتا ہے، وہ اپنے رب کو ناراض کرتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8063]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8063 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف، عقبة بن عبد الله الأصم ضعيف، وقد تابعه قتادة، لكن لا يعرف له سماع من عبد الله بن بريدة فيما قاله البخاري في "التاريخ الكبير" 4/ 12، لا سيما وهو من المدلِّسين ولم يصرح بسماعه من عبد الله بن بريدة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے؛ کیونکہ عقبہ بن عبد اللہ الاصم ضعیف راوی ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اگرچہ قتادہ نے ان کی متابعت کی ہے، لیکن جیسا کہ امام بخاری نے ’التاریخ الکبیر‘ (4/ 12) میں فرمایا: قتادہ کا عبد اللہ بن بریدہ سے سماع (سننا) ثابت نہیں ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: خاص طور پر جبکہ وہ مدلس ہیں اور انہوں نے عبد اللہ بن بریدہ سے سماع کی تصریح بھی نہیں کی۔
وأخرجه أحمد 38 / (22939)، وأبو داود (4977)، والنسائي (10002) من طريق قتادة، عن مناداته عبد الله بن بريدة به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 22939)، ابو داؤد (4977) اور نسائی (10002) نے قتادہ کے طریق سے، انہوں نے عبد اللہ بن بریدہ سے تخریج کیا ہے۔
قوله: "يا سيد" جاءت الرواية هنا مطلقة، لكن قيَّدتها بعض الروايات بأنَّ النهي عن مناداته بذلك إذا أُضيف إلى المؤمنين، فقد جاء في رواية أحمد والنسائي: "لا تقولوا للمنافق: سيدنا؛ فإنه إن يكُ سيّدكم، فقد أسخطتم ربكم".
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: حدیث میں لفظ "یا سید" (اے سردار) کا ذکر یہاں مطلق (بغیر قید کے) آیا ہے، لیکن بعض روایات نے اسے مقید کیا ہے کہ ممانعت تب ہے جب منافق کو مومنین کی طرف منسوب (ہمارا سردار) کہا جائے۔ چنانچہ احمد اور نسائی کی روایت میں ہے: "منافق کو ’ہمارا سردار‘ (سیدنا) مت کہو؛ کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہوا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کر دیا۔"