المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. أربع إذا كان فيك لا يضرك ما فاتك من الدنيا
اگر تم میں چار باتیں ہوں تو دنیا کی چھن جانے والی چیزیں تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گی
حدیث نمبر: 8076
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا الحَكَم بن نافع، حدثنا عُفَير بن مَعْدان، عن سُلَيم (2) بن عامر، عن أبي أُمامة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله ليُجرِّبُ أحدكم بالبلاء. وهو أعلمُ به - كما يُجرِّبُ أحدُكم ذهبَه بالنار، فمنهم مَن يَخْرُجُ كالذهب الإبرِيز، فذلك الذي نجَّاه الله ﷿ من السيّئات، ومنهم مَن يَخرُجُ كالذهب دون ذلك، فذلك الذي يَشُكُّ بعضَ الشكِّ، ومنهم مَن يَخْرُجُ كالذهب الأسود، فذلك الذي قد افتُتِن" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7878 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7878 - صحيح
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں مصیبت کے ساتھ جانچتا ہے، حالانکہ وہ تمہیں اچھی طرح جانتا ہے، جیسا کہ تم سونے کو آگ کے ساتھ جانچتے ہو، کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش سے اس طرح نکل آتے ہیں جیسے خالص سونا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے بچا کر رکھا، اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو سونے کی طرح نکلتے ہیں مگر اس سے ذرا کم، یہ وہ لوگ ہیں جو شکوک و شبہات میں مبتلا ہوئے، کچھ لوگ کالے سونے کی طرح نکلتے ہیں، یہ وہ شخص ہے جو فتنے میں مبتلا ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8076]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8076 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى سليمان، وجاء على الصواب في "تلخيص" الذهبي.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ’سلیمان‘ بن گیا ہے، جبکہ ذہبی کی ’التلخیص‘ میں یہ درست حالت میں آیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عفير بن مَعْدان، فإنه متفق على ضعفه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عفیر بن معدان ہے، کیونکہ اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
وأخرجه ابن أبي الدنيا في "المرض والكفارات" (27)، والبيهقي في "الشعب" (9454)، وقوام السنة في "الترغيب" (559) من طريق أبي بكر محمد بن سهل بن عسكر، والطبراني في "الكبير" (7698) من طريق أبي زيد أحمد بن عبد الرحيم بن يزيد الحوطي، كلاهما عن أبي اليمان الحكم بن نافع بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی الدنیا نے ’المرض والکفارات‘ (27) میں، بیہقی نے ’الشعب‘ (9454) میں اور قوام السنہ نے ’الترغیب‘ (559) میں ابو بکر محمد بن سہل بن عسکر کے طریق سے؛ اور طبرانی نے ’الکبیر‘ (7698) میں ابو زید احمد بن عبدالرحیم بن یزید الحوطی کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ دونوں (محمد اور احمد) ابو الیمان الحکم بن نافع سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔