المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. أكثر ما يدخل الناس الجنة التقوى وحسن الخلق .
لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں لے جانے والی چیزیں تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہیں
حدیث نمبر: 8117
حدثنا أبو بكر محمد بن داود، الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا سهل بن عثمان، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن أبيه، عن جدِّه، عن أبي هريرة قال: سُئل النبيُّ ﷺ عن أكثرِ ما يُدخِل الناسَ الجنَّةَ، قال:"التقوى وحُسْنُ الخُلُق، وسُئل عن أكثرِ ما يُدخِلُ الناسَ النَّارَ، فقال:"الأجْوَفانِ": الفمُ والفَرْجُ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7919 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7919 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ کونسی چیز ہے جس کی بناء پر زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تقویٰ اور حسن اخلاق۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جس کی بناء پر زیادہ لوگ دوزخ میں جائیں گے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہ اور شرمگاہ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8117]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8117 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه ابن ماجه (4246)، والترمذي (2004)، وابن حبان (476) من طريق عبد الله بن إدريس، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: صحيح غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4246)، ترمذی (2004) اور ابن حبان (476) نے عبد اللہ بن ادریس کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "صحیح غریب" ہے۔
وأخرجه أحمد 13 / (7907) و 15 / (9096) و (9696)، وابن ماجه (4246) من طريق داود بن يزيد أخي إدريس، عن أبيه، عن أبي هريرة، وداود ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (13/ 7907، 15/ 9096، 9696) اور ابن ماجہ (4246) نے داود بن یزید (ادریس کے بھائی)، از والد خود، از ابوہریرہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور (راوی) داود ضعیف ہے۔
وانظر ما سيأتي عند المصنف برقمي (8257) و (8258) من حديث أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: مزید دیکھیے جو مصنف کے ہاں ابوہریرہ کی حدیث سے آگے نمبر (8257) اور (8258) پر آئے گا۔
(1) إسناده حسن من أجل جدِّ عبد الله بن إدريس - واسمه يزيد بن عبد الرحمن الأودي فقد روى عنه ثلاثة، ووثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ولم يُجرح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن ادریس کے دادا (یزید بن عبد الرحمٰن الاودی) کی وجہ سے "حسن" ہے؛ ان سے تین راویوں نے روایت کی ہے، عجلی نے انہیں ثقہ کہا، ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا، اور ان پر کوئی جرح نہیں کی گئی۔