🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. حفروا لماعز إلى صدره عند الرجم
سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لیے رجم کے وقت سینے تک گڑھا کھودا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8276
كما حدَّثَناه بكر بن محمد بن حَمْدان المروّزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا حفص بن عمر العَدَني، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ ماعزًا جاء إلى رجل من المسلمين، فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فما تأمرُني؟ فقال له الرجلُ: اذهَبْ إلى رسولِ الله ﷺ ليستغفِرَ لك. فلما أتى ماعزٌ رسول الله ﷺ فأخبره كَرِهَ رسول الله ﷺ كلامَه - أو قال: قولَه - ثم قال رسولُ الله ﷺ لمن كان معه:"أَبصاحبِكم مَسٌّ؟" قال ابن عباس: فنظرتُ إلى القوم لأُشيرَ عليهم، فلم يَلتفِتْ إليَّ منهم أحدٌ، فقال له رسول الله ﷺ:"لعلَّكَ قبَّلتَها؟" قال: لا، قال النبي ﷺ: فمَسِسْتها؟ قال: لا، قال:"ففَعَلتَ بها؟" ولم يَكْنِ (1) ، قال: 4/ 362 نعم، قال:"فارجُمُوه"، قال: فبَيْنا هو يُرجَمُ إِذ رَمَاه الرجلُ الذي جاءَه ماعزٌ يستشيرُه، رَمَاه بِعَظْمٍ فخَرَّ ماعزٌ، فالتفَتَ إليه، فقال له ماعزٌ: قاتَلَكَ اللهُ أَوْرَيتَني (2) ثم أنتَ الآنَ تَرجُمُني (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ ایک صحابی کے پاس گئے اور کہنے لگے: مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے تم مجھے کوئی مشورہ دو کہ میں کیا کروں؟ اس صحابی نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لئے بخشش کی دعا فرما دیں گے۔ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا قصہ سنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی گفتگو اچھی نہ لگی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: کیا تمہارے اس ساتھی کو جنون کی بیماری ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں لوگوں کی طرف دیکھنے لگ گیا تاکہ میں ان کی جانب کوئی اشارہ کروں لیکن میری طرف کسی نے منہ اٹھا کر نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ تو نے صرف بوسہ لیا ہو، اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ تو نے اس کو صرف چھوا ہو، اس نے کہا: جی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کے ساتھ (زنا) کیا ہے اور یہ کہنے میں آپ نے مبہم لفظ نہیں بولا۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دے دیا۔ جب ان کو رجم کیا جا رہا تھا، تو ان میں وہ آدمی بھی تھا جس سے سیدنا ماعز نے مشورہ لیا تھا، اس آدمی نے ان کو ایک بہت بڑی ہڈی ماری جس کی وجہ سے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ زمین پر گر گئے، سیدنا ماعز اس کی جانب متوجہ ہو کر بولے: اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے، تو نے ہی مجھے مشورہ دیا تھا اب تو ہی مجھے مار رہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8276]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8276 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: يكني، بإثبات الياء والمثبت على الجادة من "التلخيص" للذهبي.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ "یَکنِی" (یاء کے اثبات کے ساتھ) ہے، جبکہ یہاں جو متن (مثبت) درج کیا گیا ہے وہ قواعد کے مطابق درست حالت میں ہے جیسا کہ ذہبی کی "التلخیص" میں ہے۔
(2) في (ز): أورتني، وفي (م): أرسي، غير منقوطة، وفي (ك): أورتنني، والمثبت من (ب)، وهو الصواب إن شاء الله، ففي "لسان العرب" (وري): استوريتُ فلانًا رأيًا: سألته أن يستخرج لى رأيًا.
📝 نوٹ / مخطوطات: نسخہ (ز) میں لفظ "أورتني"، نسخہ (م) میں "أرسي" (بغیر نقطوں کے)، اور نسخہ (ک) میں "أورتنني" ہے۔ جو متن یہاں درج ہے وہ نسخہ (ب) سے لیا گیا ہے اور انشاءاللہ وہی درست ہے؛ کیونکہ "لسان العرب" (مادہ: وری) میں ہے: "استوریتُ فلاناً رأیاً" کا مطلب ہے: میں نے فلاں سے درخواست کی کہ وہ میرے لیے کوئی رائے نکالے (یعنی مشورہ طلب کیا)۔
(3) إسناده ضعيف جدًّا بهذا السياق، حفص بن عمر العدني متفق على ضعفه، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص". عبد الصمد بن الفضل: هو ابن موسى البلخي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سیاق (الفاظ) کے ساتھ اس کی سند شدید ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "حفص بن عمر العدنی" کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے، اور اسی وجہ سے امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔ عبدالصمد بن الفضل سے مراد "عبدالصمد بن موسیٰ البلخی" ہیں۔
ولم نقف عليه مخرَّجًا من هذا الوجه عند غير المصنف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمیں مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں اس سند (طریق) سے اس حدیث کی تخریج نہیں ملی۔