المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. حفروا لماعز إلى صدره عند الرجم
سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لیے رجم کے وقت سینے تک گڑھا کھودا گیا
حدیث نمبر: 8277
حدثنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، قالا: حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن المُهاجر، عن عبد الله (1) بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كنتُ جالسًا عند رسولِ الله ﷺ فجاء الأسلميُّ ماعزُ بنُ مالك، فقال: يا رسولَ الله، إنِّي زَنَيتُ، وإني أُريد أن تُطهِّرَني، فقال له النبيُّ ﷺ:"ارجع"، فرجعَ حتى أتاه الثالثةَ، فأتى رسولَ الله ﷺ قومُه فسألَهم عنه، فأحسَنُوا عليه الثَّناءَ، فقال:"كيف عَقلُه، هل به"جُنونٌ؟" قالوا: لا والله، وأحسَنُوا عليه الثناءَ في عقلِه ودينهِ، وأتاه الرابعةَ فسألهم عنه، فقالوا له مثلَ ذلك، فأمَرَهم فَحَفَرُوا له حفرةً إلى صَدرِه ثم رَجَموه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، فقد احتجَّ ببَشير بن مُهاجر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8078 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، فقد احتجَّ ببَشير بن مُهاجر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8078 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (آپ فرماتے ہیں کہ) میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زنا کا ارتکاب ہو گیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک و صاف فرما دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ، وہ واپس چلے گئے، (وہ پھر دوبارہ آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ بھی ان کو واپس بھیج دیا، وہ چلے گئے، لیکن سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ تیسری مرتبہ) پھر آ گئے، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبیلے میں تشریف لائے اور لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا، سب لوگوں نے ان کے بارے اچھے بیان دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس کی عقل کیسی ہے؟ کیا اس میں کوئی پاگل پن تو نہیں ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نہیں، اس میں کوئی جنون وغیرہ بھی نہیں ہے، اور اس کی عقل اور اس کے دینی معاملات کے بارے میں لوگوں نے ان کی تعریف کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم چار مرتبہ اس قبیلے میں گئے اور سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے بارے میں لوگوں سے پوچھا، ہر بار لوگوں نے ان کی تعریف ہی کی۔ تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، لوگوں نے ایک گڑھا کھودا، سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو سینے تک اس میں دبا کر پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بشیر بن مہاجر کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8277]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8277 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في (ز) و (ب) إلى: عبيد الله، والمثبت من (ك) و (م).
📝 نوٹ / تحریف: نسخہ (ز) اور (ب) میں نام تحریف ہو کر "عبید اللہ" ہو گیا ہے، درست متن نسخہ (ک) اور (م) کے مطابق درج کیا گیا ہے۔
(2) حديث صحيح دون قصة الحفر لماعز، فقد تفرَّد بها بشير بن المهاجر، وهو ليّن الحديث، وقد وهم في ذكر الحفر، ونفاه غيره كما في حديث أبي سعيد الخدري التالي، وهو أصحُّ. وقد روى له مسلم هذا الحديث الواحد متابعة وليس احتجاجًا.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے سوائے حضرت ماعز ؓ کے لیے "گڑھا کھودنے کے قصے" کے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: گڑھا کھودنے کے ذکر میں بشیر بن مہاجر متفرد ہیں (یعنی اکیلے راوی ہیں)، اور وہ "لین الحدیث" (کمزور راوی) ہیں، انہیں گڑھے کے ذکر میں وہم ہوا ہے۔ دیگر راویوں نے گڑھا کھودنے کی نفی کی ہے جیسا کہ اگلی ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں ہے جو کہ زیادہ صحیح ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام مسلم نے بشیر بن مہاجر کی یہ ایک حدیث صرف "متابعت" کے طور پر روایت کی ہے، "احتجاج" (اصل دلیل) کے طور پر نہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (22942)، ومسلم (1695) (23)، والنسائي (7129) و (7164) من طرق عن بشير بن المهاجر، بهذا الإسناد. وزاد مسلمٌ في آخر الحديث قصةَ الغامدية التي طلبت من النبي ﷺ أن يطهرها من الزنى، وهذه القصة سترد عند المصنف وحدها بالإسناد نفسه برقم (8282).
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/ 22942)، مسلم (1695/ 23)، اور نسائی (7129، 7164) نے بشیر بن مہاجر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: مسلم نے حدیث کے آخر میں غامدیہ (خاتون) کا قصہ بھی زائد بیان کیا ہے جس نے نبی ﷺ سے درخواست کی تھی کہ اسے زنا سے پاک کر دیں۔ یہ قصہ مصنف کے ہاں اسی سند کے ساتھ الگ سے نمبر (8282) پر آئے گا۔
وأخرجه بنحوه مسلم (1695) (22)، والنسائي (7125) من طريق سليمان بن بريدة، عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسی جیسی روایت مسلم (1695/ 22) اور نسائی (7125) نے سلیمان بن بریدہ کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد (بریدہ ؓ) سے نقل کی ہے۔