المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. حكاية رجم امرأة من غامد
قبیلہ غامد کی ایک خاتون (سیدہ غامدیہ رضی اللہ عنہا) کے رجم کا قصہ
حدیث نمبر: 8282
حدثنا أبو النَّضر الفقيه، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن مُهاجِر، حدثني عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: أتتِ امرأةٌ من غامدٍ النبيَّ ﷺ، فقالت: قد فَجَرتُ، فقال:"اذْهَبي"، فذهبت ثم رجعت، فقالت: لعلَك تريدُ أن تصنعَ بي كما صنعتَ بماعزِ بن مالك، والله إني لحُبْلى، فقال:"اذْهَبي حتى تَلِدِينَ"، ثم جاءت به في خِرْقة، فقالت: قد ولدتُ فطهِّرْني، قال:"اذْهَبي حتى تَفطِميهِ"، فذهبت ثم جاءت به في يده كِسرةُ خبزٍ فقالت: قد فَطَمتُه، فأمرَ برجمِها (1) . وقد رواه إبراهيم بن ميمون الصائغُ عن أبي الزُّبير عن جابر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8083 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی، اور کہنے لگی کہ میں گناہ کی مرتکب ہوئی ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو واپس بھیج دیا، وہ چلی گئی، اور (کچھ دنوں بعد) دوبارہ آئی اور کہنے لگی: آپ کو میرے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو آپ نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا، اللہ کی قسم! میں حاملہ ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا اور بچہ پیدا ہونے کے بعد آنا، (وہ چلی گئی اور بچہ پیدا ہونے کے بعد) دوبارہ آئی، اور ایک کپڑے میں بچے کو بھی لپیٹ کر ساتھ لائی اور کہنے لگی: میرا بچہ پیدا ہو گیا ہے اب آپ مجھے پاک فرما دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی واپس چلی جاؤ، اس کو دودھ پلاؤ، وہ چلی گئی، اور پھر آئی تو اس بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس کو دودھ پلا دیا ہے، تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رجم کا حکم دیا۔ ٭٭ اس حدیث کو ابراہیم بن میمون الصائغ نے ابوالزبیر کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8282]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8282 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل بشير بن المهاجر، وقد روى له مسلم هذا الحديث الواحد متابعةً، وليس احتجاجًا. وصحَّ الحديث من طريق سليمان بن بريدة عن أبيه كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور تائیدی روایات (متابعات و شواہد) میں یہ سند "حسن" ہے کیونکہ اس میں "بشیر بن مہاجر" موجود ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ: امام مسلم نے بشیر کی یہ اکیلی حدیث صرف تائید کے لیے لی ہے، اصل دلیل کے طور پر نہیں۔ 📌 اہم نکتہ: یہ حدیث سلیمان بن بریدہ کے اپنے والد سے طریق سے بھی صحیح ثابت ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
وأخرجه أحمد 38/ (22949)، ومسلم (1695) (23)، وأبو داود (4442)، والنسائي (7159) و (7231) من طرق عن بشير بن المهاجر بهذا الإسناد. وذُكر في رواية مسلم قصة ماعز قبل قصة الغامدية، وسلفت قصته وحدها بالإسناد نفسه برقم (8277).
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/ 22949)، مسلم (1695/ 23)، ابو داؤد (4442) اور نسائی (7159، 7231) نے بشیر بن مہاجر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: مسلم کی روایت میں غامدیہ کے قصے سے پہلے ماعز کا قصہ مذکور ہے، جو مصنف کے ہاں اسی سند کے ساتھ (نمبر: 8277) پر پہلے گزر چکا ہے۔
وأخرجه بنحوه مسلم (1695) (22)، والنسائي (7148) من طريق سليمان بن بريدة، عن أبيه. وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت مسلم (1695/ 22) اور نسائی (7148) نے سلیمان بن بریدہ کے طریق سے، اپنے والد (بریدہ ؓ) سے روایت کی ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔