المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. حكاية رجم امرأة من غامد
قبیلہ غامد کی ایک خاتون (سیدہ غامدیہ رضی اللہ عنہا) کے رجم کا قصہ
حدیث نمبر: 8283
أخبرَناه أبو الحسن محمد بن عبد الله السُّنّي بمَرْو، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو حمزة، حدثنا إبراهيم الصائغ، عن أبي الزُّبير عن جابر: أنَّ امرأةً أتتِ النبيَّ ﷺ فقالت: إني قد زنيتُ، فأقِمْ فيَّ الحدَّ، فقال:"انطلقِي فضَعِي ما في بَطْنِك"، فلما وضعت ما في بطنها أتَتْه فقالت: إنِّي زنيتُ، فأَقِمْ فيَّ الحدَّ، فقال:"انطَلِقي حتى تَفطِمي ولدَكِ"، فلما فطمت ولدَها جاءت فقالت: يا رسولَ الله، إني زنيتُ، فأقِمْ فيَّ الحدَّ، فقال:"هاتي مَن يَكفُلُ ولدَكِ" فقام رجلٌ فقال: أنا أكفُلُ ولدها، فرَجَمَها رسولُ الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد روى مالك بن أنس في"الموطّأ" حديث المرجومة بإسنادٍ أَخشى عليه الإرسالَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8084 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد روى مالك بن أنس في"الموطّأ" حديث المرجومة بإسنادٍ أَخشى عليه الإرسالَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8084 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر حد قائم فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور جو تمہارے پیٹ میں ہے اسے جنم دے دو“، جب اس نے بچے کو جنم دے دیا تو دوبارہ آئی اور عرض کی: میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر حد قائم کیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ یہاں تک کہ اپنے بچے کا دودھ چھڑا دو“، جب اس نے دودھ چھڑا دیا تو پھر آئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر حد قائم فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا شخص لے کر آؤ جو تمہارے بچے کی کفالت کرے“، چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: میں اس کے بچے کی کفالت کروں گا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کر دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8283]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8283]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير محمد بن عبد الله السني، فقد تُكلم في عدالته، لكنه متابع» [ترقيم الرساله 8283] [ترقيم الشركة 8184] [ترقيم العلميه 8084]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8283 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير محمد بن عبد الله السني، فقد تُكلم في عدالته، لكنه متابع. أبو الموجّه: هو محمد بن عمرو الفزاري وعبدان هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، وأبو حمزة: هو محمد بن ميمون المروزي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کی سند "حسن" ہے کیونکہ اس میں راوی "محمد بن عمرو بن علقمہ اللیثی" موجود ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے محمد بن عمرو کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں ماعز کا قصہ بھی ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن" کہا ہے۔
وأخرجه النسائي (7149)، والدارقطني (3228)، وأبو طاهر المخلص في "المخلصيات" (668) من طريق علي بن الحسن بن شقيق، عن أبي حمزة السكري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (7149)، دارقطنی (3228) اور ابو طاہر المخلص نے "المخلصیات" (668) میں علی بن الحسن بن شقیق کے طریق سے، انہوں نے ابو حمزہ السکری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8283 in Urdu