المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. من يخالف دينه من المسلمين فاقتلوه
مسلمانوں میں سے جو اپنا دین بدل لے (مرتد ہو جائے) اسے قتل کر دو
حدیث نمبر: 8291
أخبرني محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عمر بن حفص بن غِيَاث، حدثنا أبي، عن داود بن أبي هِند، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: كان رجلٌ من الأنصار أسلمَ، ثم ارتدَّ ولَحِقَ بالشِّرك، ثم نَدِمَ فأرسلَ إلى قومِه: أن سَلُوا رسول الله ﷺ: هل لي من توبةٍ؟ قال: فنزلت ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾ إلى قوله: ﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ﴾ [آل عمران: 86 - 89] قال: فأقبَلَ إليه قومُه فأسلمَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8092 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8092 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک انصاری شخص اسلام لے آیا، پھر وہ مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا، اس کے بعد پھر نادم ہو گیا اور اس نے اپنی قوم کی جانب پیغام بھیجا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے بارے میں دریافت کریں کہ میری توبہ کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ (آل عمران: 86) ” کیونکر اللہ اس قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لا کر کافر ہو گئے اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آ چکی تھیں “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8291]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8291 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (2660)
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ یہ پہلے نمبر (2660) پر گزر چکی ہے۔