المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
45. من حالت شفاعته دون حد فقد ضاد الله فى أمره
جس کی سفارش اللہ کی کسی حد کے آڑے آئی، اس نے گویا اللہ کے حکم کی مخالفت کی
حدیث نمبر: 8357
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، حدَّثنا أسَد بن موسى، حدَّثنا أنس بن عِيَاض، عن يحيى بن سعيد، حدثني عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر: أَنَّ رسول الله ﷺ قامَ بعد أن رَجَمَ الأسلميَّ، فقال:"اجتنِبُوا هذه القاذُورة التي نَهَى الله عنها، فمن ألَمَّ فليَستتِرْ بسِتْر الله، وليَتُبْ إلى الله، فإِنَّه مَن يُبدِ لنا صَفْحتَه نُقِمْ عليه كتابَ الله ﷿" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8158 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8158 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: اس گندگی سے بچو، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، اور جو اس میں مبتلا ہو جائے، اس کو چاہیے کہ وہ اس چیز کو چھپانے کی کوشش کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے چھپایا ہوا ہے، اور اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے، کیونکہ جس کا عمل ہمارے پاس ظاہر ہو جاتا ہے، اس پر کتاب اللہ کے مطابق حد لگانا ضروری ہو جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8357]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8357 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف فيه على يحيى بن سعيد - وهو الأنصاري - عن عبد الله بن دينار في وصله وإرساله، والراجح إرساله كما قال الدارقطني في "العلل" (2811). وسلف الكلام عليه مفصلًا عند مكرره برقم (7807).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، اس سند کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس میں یحییٰ بن سعید (انصاری) پر اختلاف ہوا ہے جو وہ عبداللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ آیا یہ "موصول" ہے یا "مرسل"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راجح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے جیسا کہ امام دارقطنی نے "العلل" (2811) میں فرمایا ہے۔ اس پر تفصیلی کلام اس کے مکرر مقام پر نمبر (7807) کے تحت گزر چکا ہے۔