المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. الأرض كلها مسجد إلا الحمام والمقبرة
ساری زمین مسجد ہے سوائے حمام اور قبرستان کے۔
حدیث نمبر: 837
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عمرو بن يحيى عمرو بن يحيى الأنصاري، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"الأرضُ كلُّها مسجدٌ إِلَّا الحمَّامَ والمَقبُرةَ" (1) . تابعه عبدُ العزيز بن محمد عن عمرو بن يحيى:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 919 - تابعه عبد العزيز بن محمد عن عمرو
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 919 - تابعه عبد العزيز بن محمد عن عمرو
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام زمین سجدہ گاہ (نماز کی جگہ) ہے سوائے غسل خانے اور قبرستان کے۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 837]
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 837]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 837 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد (18/ (11919)، وأبو داود (492)، وابن حبان (1699) و (2316) و (2321) من طرق عن عبد الواحد بن زياد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11919/18)، ابوداؤد (492) اور ابن حبان (1699) نے عبدالواحد بن زیاد کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (11784) من طريق محمد بن إسحاق، وأحمد (11788) و (11789)، وأبو داود (492)، وابن ماجه (745) من طريق حماد بن سلمة، وأحمد (11788)، وابن ماجه (745) من طريق سفيان الثوري، ثلاثتهم عن عمرو بن يحيى بن عمارة، به - إلّا أنَّ سفيان لم يذكر فيه أبا سعيد الخدري وجعله من رواية يحيى بن عمارة عن النبي ﷺ مرسلًا، وقال فيه ابن إسحاق: "مسجد وطهور" بزيادة "وطهور" وهي زيادة شاذَّة. وانظر الكلام على رواية سفيان المرسلة في التعليق على الحديث عند أحمد (11784).
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے محمد بن اسحاق، حماد بن سلمہ اور سفیان ثوری کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: سفیان ثوری نے حضرت ابوسعید کا ذکر نہیں کیا اور اسے یحییٰ بن عمارہ کی "مرسل" روایت قرار دیا ہے۔ ابن اسحاق نے اس میں "مسجد وطہور" (مسجد اور پاکیزگی) کے الفاظ بڑھائے ہیں جو کہ "شاذ" ہیں۔