🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. لا تصلوا إلا إلى سترة ولا تدع أحدا يمر بين يديك
سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو اور کسی کو اپنے آگے سے گزرنے نہ دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 841
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا عِمْران بن موسى الجُرْجاني، حدثنا إبراهيم بن المنذِر الحِزَامي، حدثنا سفيان بن عُيَينة. وحدثني علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان، حدثني صفوان بن سُلَيم، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن سهل بن أبي حَثْمة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا صلَّى أحدُكم فليصلِّ إلى سُتْرِةٍ وليَدْنُ منها، لا يَقطَعِ الشيطانُ عليه صلاته" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 922 - على شرطهما
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ سترا (نماز کی آڑ) کی طرف پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے، تاکہ شیطان اس کی نماز (میں خلل ڈال کر اسے) نہ توڑ سکے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 841]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 841 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابن ابی عمر سے مراد العدنی اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16090)، وأبو داود (695)، والنسائي (826)، وابن حبان (2373) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (16090/26)، ابوداؤد (695)، نسائی (826) اور ابن حبان (2373) نے سفیان بن عیینہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔