المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الذين يلونهم
آزمائش میں سب سے سخت انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں، پھر جو ان کے قریب ہوں
حدیث نمبر: 8435
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق، حَدَّثَنَا أبو عامر العَقَدي، حَدَّثَنَا شُعبة، عن حُصين، قال: سمعت أبا عُبيدة بن حُذيفة يحدّث عن عمّته فاطمة قالت: عُدْتُ رسولَ الله ﷺ في نِسوة، فإِذا سِقاءٌ مُعلَّق وماؤُهُ يَقطُر عليه من شدّة ما يَجِدُ من حرّ الحُمَّى، فقلت: يا رسول الله، لو دعوتَ الله فأذهَبَه عنك، فقال:"إنَّ أشدَّ الناسِ بلاءً الأنبياءُ، ثم الذين يَلُونَهم" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8231 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8231 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوعبیدہ بن حذیفہ کی پھوپھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے گئی، آپ کے قریب ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا، اور اس کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹپک رہا تھا، بخار کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سخت گرمائش محسوس ہو رہی تھی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس سختی کو آپ سے ختم فرما دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کرام علیہم السلام کی ہوتی ہے، اس سے کم آزمائش ان لوگوں کی ہوتی ہے جو ان کے قریب ہوتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8435]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8435 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل أبي عبيدة بن حذيفة. وهو ابن اليمان. وقوَّى إسناده الحافظ ابن حجر في "الإصابة" في ترجمة فاطمة بنت اليمان. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي، وحصين هو عبد الرحمن السّلمي.
⚖️ درجۂ حدیث: ابو عبیدہ بن حذیفہ (جو ابن الیمان ہیں) کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے 📖 حوالہ / مصدر: "الإصابۃ" میں فاطمہ بنت الیمان کے ترجمہ میں اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے۔ (راویوں کا تعین): ابو عامر العقدی سے مراد عبدالملک بن عمرو القیسی ہیں، اور حصین سے مراد عبدالرحمٰن السلمی ہیں۔
وأخرجه أحمد 45/ (27079)، والنسائي (7454) و (7567) من طرق عن شعبة، به.
🧩 متابعات و شواہد: اسے احمد 45/ (27079) اور نسائی (7454) و (7567) نے شعبہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (7440) من طريق عبثر بن القاسم، عن حصين، به.
🧩 متابعات و شواہد: اسے نسائی (7440) نے عبثر بن القاسم کے واسطے سے حصین سے روایت کیا ہے۔
ويشهد للفظ المرفوع منه حديثًا أبي سعيد الخدري وسعد بن أبي وقاص السالفين عند المصنّف برقمي (120) و (121)، وهو صحيح بشواهده.
🧩 متابعات و شواہد: اس کے مرفوع الفاظ کے لیے ابو سعید خدری اور سعد بن ابی وقاص کی احادیث بطور شاہد ہیں جو مصنف کے ہاں نمبر (120) اور (121) پر گزر چکی ہیں، اور یہ اپنے شواہد کی بنا پر "صحیح" ہے۔