🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. سِتَّةٌ مِنْ آثَارِ الْقِيَامَةِ
قیامت کے آثار میں سے چھ نشانیوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8500
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حَدَّثَنَا أبو أيوب الدِّمشقي، حَدَّثَنَا الوليد بن مُسلِم، حَدَّثَنَا عبد الله بن العلاء بن زَبْر الرَّبَعي قال: سمعت بُسرَ بنَ عبيد الله الحَضْرمي يحدِّث، أنه سمع أبا إدريس الخَوْلانيَّ يقول: سمعتُ عوفَ بن مالك الأشجعيَّ يقول: أَتيتُ رسولَ الله ﷺ في غزوة تَبُوك وهو في قُبَّة من أَدَم، فقال لي:"يا عوفُ، اعدُدْ سِتًّا بين يَدَي الساعة: مَوْتي، ثم فتحُ بيتِ المَقدِس، ثم مُوتانٌ يأخذ فيكم كقُعَاص (1) الغَنَم، ثم استفاضةُ المال فيكم حتَّى يُعطَى الرجل مئة دينار فيَظَلُّ ساخطًا، ثم فتنةٌ لا يبقى بيتٌ من العرب إلَّا دَخَلَته، ثم هُدْنةٌ تكون بينكم وبين بني الأصفر فيَغدِرون فيأتونكم تحتَ ثمانين غايةً، تحتَ كل غايةٍ اثنا عشرَ ألفًا" (2) . قال الوليد بن مسلم: فذاكَرْنا هذا الحديثَ شيخًا من شيوخ أهل المدينة؛ قولَه:"ثم فتحُ بيتِ المَقدِس"، فقال الشيخ: أخبرني سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة: أنه كان يُحدِّث بهذه السِّتة عن رسول الله ﷺ، ويقول بدلَ"فتح بيت المقدس":"عُمْرانُ بيت المَقدِس" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8295 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عوف! قیامت سے پہلے چھ چیزیں شمار کر لو: میری وفات، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک ایسی موت (وبا) جو تم میں اس طرح پھیلے گی جیسے بکریوں میں «قُعَاص» (گردن توڑ بخار) کی بیماری پھیلتی ہے، پھر تمہارے درمیان مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ ایک شخص کو سو دینار دیے جائیں گے تب بھی وہ (ناشکری کرتے ہوئے) غصے میں رہے گا، پھر ایسا فتنہ ہوگا جو عربوں کے ہر گھر میں داخل ہو جائے گا، پھر تمہارے اور بنو اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہوگی مگر وہ غداری کریں گے اور تمہارے پاس اسی (80) جھنڈوں کے تلے آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار (فوجی) ہوں گے۔ ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کا تذکرہ اہل مدینہ کے ایک شیخ سے کیا جس میں بیت المقدس کی فتح کا ذکر تھا، تو اس بزرگ نے کہا: مجھے سعید مقبری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چھ نشانیوں کے بارے میں روایت کرتے ہوئے بیت المقدس کی فتح کے بجائے بیت المقدس کی آبادی کے الفاظ بیان کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8500]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8500] [ترقيم الشركة 8397] [ترقيم العلميه 8295]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8500 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: كعقاص، بتقديم العين المهملة، والتصويب من (ك) و (م) وكتب اللغة. والقُعاص: داءٌ يصيب الدوابّ فيسيل من أنوفها شيء فتموت فجأة.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "کعقاص" (عین مہملہ کی تقدیم کے ساتھ) لکھا گیا، جبکہ درستگی نسخہ (ک)، (م) اور لغت کی کتابوں سے کی گئی ہے۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: لفظ "القُعَاص" (جو درست لفظ ہے) اس بیماری کو کہتے ہیں جو چوپایوں کو لگتی ہے، جس سے ان کی ناک سے رطوبت بہتی ہے اور وہ اچانک مر جاتے ہیں۔
(2) إسناده صحيح. أبو أيوب الدمشقي: هو سليمان بن عبد الرحمن التميمي، وأبو إدريس الخولاني: هو عائذ الله بن عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "ابو ایوب دمشقی" سے مراد سلیمان بن عبد الرحمن التمیمی ہیں، اور "ابو ادریس خولانی" سے مراد عائذ اللہ بن عبد اللہ ہیں۔
وأخرجه البخاري (3176)، وابن ماجه (4042)، وابن حبان (6675) من طرق عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری (3176)، ابن ماجہ (4042) اور ابن حبان (6675) نے اسے ولید بن مسلم کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (6460).
📝 نوٹ / توضیح: تفصیل کے لیے پیچھے گزری ہوئی حدیث نمبر (6460) ملاحظہ کریں۔
(3) هذا الطريق فيه ضعف من جهة إبهام الشيخ المدني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس طریق (سند) میں ضعف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ راوی "الشیخ المدنی" کا مبہم ہونا (نام کا غیر واضح ہونا) ہے۔
وقد أخرجه مع ما قبله البيهقي في "السنن" 9/ 223 من طريق محمد بن المثنى، عن الوليد بن مسلم، إلّا أنه قال فيه: سعيد عن أبي هريرة، ولم ينسبه. وذكر الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 9/ 514 أنَّ الإسماعيلي خرَّجه عن الوليد بن مسلم عن الشيخ المدني وقال فيه: أخبرني سعيد بن المسيب عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اور اس سے قبل والی روایت کو بیہقی نے "السنن" (9/ 223) میں محمد بن مثنیٰ کے طریق سے، ولید بن مسلم سے روایت کیا ہے، مگر انہوں نے اس میں کہا: "سعید عن ابی ہریرہ" اور سعید کی نسب بیان نہیں کی۔ حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (9/ 514) میں ذکر کیا کہ اسماعیلی نے اسے ولید بن مسلم سے "الشیخ المدنی" کے واسطے سے نکالا ہے اور اس میں وضاحت کی کہ: "مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی، انہوں نے ابو ہریرہ سے۔"
(1) إذا كان مراده أنه ليس مخرَّجًا عندهما بزيادة الوليد بن مسلم عن الشيخ المدني، فقد أصاب، وإلّا فإنَّ حديث عوف بن مالك من رواية أبي إدريس الخولاني عند البخاري كما سبق، فاستدراكه من هذا الوجه عليهما ذهولٌ من الحاكم.
📝 نوٹ / توضیح: (حاکم کے استدراک پر تبصرہ) اگر حاکم کی مراد یہ ہے کہ یہ روایت "ولید بن مسلم عن الشیخ المدنی" والی زیادتی (سند) کے ساتھ شیخین (بخاری و مسلم) کے ہاں نہیں ہے، تو ان کی بات درست ہے؛ ورنہ عوف بن مالک کی حدیث ابو ادریس خولانی کی روایت سے بخاری میں موجود ہے جیسا کہ گزر چکا۔ لہٰذا اس وجہ سے ان دونوں پر استدراک کرنا حاکم کا وہم/چوک ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8500 in Urdu