المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. ذكر ما أمر به النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - عند الفتنة
فتنے کے وقت نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8508
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حَدَّثَنَا عَبْد الله (1) بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن [أبي] (2) هلال، عن أبانَ بن صالح، عن الشَّعْبي، عن عَوْف بن مالك الأشجعي قال: بَيْنا نحن مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوك ورسولُ الله ﷺ في قُبّةٍ من أَدَم، إذ مَرَرتُ فسمع صوتي فقال:"يا عوفَ بنَ مالكٍ، ادخُلْ" فقلت: يا رسول الله، أكلِّي أم بعضي؟ قال:"بل كُلُّك قال: فدخلتُ، فقال:"يا عوف، اعدُدْ سِتًّا بين يدَيِ السّاعة" فقلت: ما هنَّ يا رسول الله؟ قال:"موتُ رسولِ الله" فبكى عوفٌ، ثم قال رسول الله ﷺ:"قُلْ: إحدَى" قلت: إحدى، ثم قال:"فتحُ بيتِ المَقدِس، قُل: اثنتين" قلت: اثنتين، قال:"وموتٌ يكون في أمَّتي كقُعَاصِ (3) الغَنَم، قل: ثلاثٌ" قلت: ثلاث، قال:"وتُفتَحُ لهم الدنيا حتَّى يُعطَى الرَّجلُ المئة فيَسخَطُها، قل: أربع" قلت: أربع [قال] :"وفِتنةٌ لا يبقى أحدٌ من المسلمين إِلَّا دَخَلَت عليه بيتَه، قل: خمسٌ" قلت: خمس [قال] :"وهُدْنةٌ تكون بينَكم وبين بني الأصفَر يأتونكم على ثمانين غيات كل غَيايةٍ (4) اثنا عشرَ ألفًا، ثم يغْدِرون بكم حتَّى حَمْلِ امرأةٍ". قال: فلمّا كان عامُ عَمَواس زَعَمُوا أَنَّ عوف بن مالك قال لمعاذِ بن جبل: إنَّ رسول الله ﷺ قال لي:"اعدُدْ ستًّا بين يَدَي الساعة"، فقد كان منهنَّ الثلاثُ وبقي الثلاثُ، فقال معاذ: إنَّ لهذا مُدّةً، ولكن خمسٌ أظلَّتكم، من أدركَ منهنَّ شيئًا ثم استطاع أن يموت فليمت: أن يَظهرَ التلاعنُ على المنابر، ويُعطَى مالُ الله على الكذب والبُهْتان (1) ، وسَفْكُ الدماء بغير حق، وتُقطَعَ الأرحام، ويُصبِحَ العبدُ لا يدري أضالٌّ هو أم مُهتدٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8303 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8303 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے بنے ہوئے ایک خیمے میں تھے، جب میں وہاں سے گزرا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن کر فرمایا: اے عوف بن مالک، اندر آ جاؤ، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مکمل طور پر اندر آ جاؤں، یا تھوڑا سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل طور پر اندر آ جاؤ۔ آپ فرماتے ہیں: میں خیمے میں داخل ہو گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عوف! قیامت سے پہلے چھ واقعات رونما ہوں گے، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، وہ کون کون سے واقعات ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (1) اللہ کے رسول کی وفات۔ یہ سن کر سیدنا عوف رضی اللہ عنہ رو پڑے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو ” ایک “۔ میں نے کہا ” ایک “۔ (2) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس فتح ہو گا۔ کہو: دو، میں نے کہا ” دو “۔ (3) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں اموات اتنی کثیر ہوں گی جیسے بھیٹر بکریوں میں وباء پھیلنے سے جانور مرتے ہیں، پھر فرمایا: کہو ” تین “، میں نے کہا ” تین “۔ (4) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی دولت کھول دی جائے گی، حتی کہ کسی کو سو درہم بھی ملیں گے تو ان 100 پر بھی راضی نہیں ہو گا۔ کہو ” چار “، میں نے کہا ” چار “ (5) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا جو ہر مسلمان کے گھر میں پہنچ جائے گا۔ كہو ” پانچ “، میں نے کہا ” پانچ “۔ (6) پھر فرمایا: تمہارے اور بنی اصفر کے درمیان مصالحت ہو گی، وہ 80 جھنڈوں کے ساتھ تمہاری حمایت میں آئیں گے، ہر جھنڈے کے تحت ۱۲ ہزار کا لشکر ہو گا، پھر وہ تمہارے ساتھ غداری کریں گے حتی کہ عورت کے حمل میں بھی غدار ہی پیدا ہو گا، راوی کہتے ہیں: جب عمواس کا طاعون آیا، تو لوگ یہ سمجھے کہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا تھا کہ قیامت سے پہلے چھ واقعات گن لینا، ان میں سے تین تو رونما ہو چکے ہیں اور تین باقی رہتے ہیں، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی ایک مدت ہے۔ لیکن ان میں سے پانچ تو تم پر سایہ فگن ہیں، جو ان میں سے ایک بھی پائے، وہ اگر مر سکے تو مر جائے، منبروں پر ایک دوسرے پر لعن طعن عام ہو جائے گا، اور اللہ کا مال جھوٹ اور بہتان لگا کر حاصل کیا جائے گا، ناحق قتل ہوں گے، رشتہ داریاں مٹ جائیں گی، بندہ صبح کرے گا تو اس کو پتا نہیں ہو گا کہ وہ ہدایت یافتہ ہے یا گمراہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8508]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8508 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبيد الله.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبید اللہ" ہو گیا ہے۔
(2) سقط من النسخ الخطية، ولا يعرف في الرواة سعيد بن هلال، إنما هو ابن أبي هلال.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں سے یہ (لفظ 'ابی') ساقط ہو گیا ہے۔ راویوں میں "سعید بن ہلال" نام کا کوئی راوی نہیں، بلکہ یہ "ابن ابی ہلال" ہیں۔
(3) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: كعقاص، والتصويب من (ك) و (م).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "کعقاص" ہو گیا ہے، درستی نسخہ (ک) اور (م) سے کی گئی ہے۔
(4) كذا وقع في النسخ الخطية: ثمانين غيات كل غياية؛ وليس هذا بمحفوظ، ولا موضع للغياية هاهنا، كما قال أبو عبيد في "غريب الحديث" 2/ 87، وذكره كذلك أبو أحمد العسكري في "تصحيفات المحدثين" 1/ 355 وقال: أكثرهم يروونه: "ثمانين غاية" بياء واحدة تحتها نقطتان، فمن رواه هكذا قال: الغاية: الراية، ومن رواه "غياية" بياءين قال: أراد السحابة، ومن رواه "غابة" بباء تحتها نقطة واحدة قال: أراد الأجَمَة.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں الفاظ یوں ہیں: "ثمانین غیات کل غیایۃ"؛ حالانکہ یہ محفوظ نہیں ہے اور یہاں "غیایۃ" کا کوئی محل نہیں ہے۔ جیسا کہ ابو عبید نے "غریب الحدیث" (2/ 87) میں کہا۔ اور اسی طرح ابو احمد عسکری نے "ت صحیفات المحدثین" (1/ 355) میں ذکر کیا اور کہا: اکثر محدثین اسے "ثمانین غایۃ" (ایک یاء کے ساتھ) روایت کرتے ہیں۔ پس جو اسے یوں (غایۃ) روایت کرتا ہے وہ کہتا ہے: غایۃ سے مراد "جھنڈا" (رایۃ) ہے۔ اور جو اسے "غیایۃ" (دو یاء کے ساتھ) روایت کرتا ہے وہ کہتا ہے: اس سے مراد "بادل" ہے۔ اور جو اسے "غابۃ" (ایک نقطے والی 'ب' کے ساتھ) روایت کرتا ہے وہ کہتا ہے: اس سے مراد "جھاڑیوں کا جھنڈ / جنگل" (اجمۃ) ہے۔
(1) في النسخ الخطية غير (م): والبنيان، وهو تحريف.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (م) کے علاوہ باقی قلمی نسخوں میں "والبنیان" لکھا ہے، جو کہ تحریف ہے۔
(2) رجاله عن آخرهم ثقات لكن في سماع الشعبي - وهو عامر بن شراحيل - من عوف بن مالك نظر، فقد قال أبو حاتم الرازي كما في "المراسيل" لابنه (596): ما يمكن أن يكون سمع من عوف بن مالك الأشجعي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے تمام رجال (آخر تک) ثقہ ہیں، لیکن "شعبی" (عامر بن شراحیل) کے حضرت عوف بن مالک سے سماع میں اشکال ہے۔ چنانچہ ابو حاتم الرازی نے اپنے بیٹے کی کتاب "المراسیل" (596) میں فرمایا: "ممکن نہیں کہ انہوں نے عوف بن مالک اشجعی سے سنا ہو۔"
قلنا: والشطر الأول من الحديث صحيح، قد روي عن عوف من غير وجه، انظر ما سلف برقم (6460) و (8500).
⚖️ درجۂ حدیث: ہم کہتے ہیں: حدیث کا پہلا حصہ "صحیح" ہے، جو عوف سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ ملاحظہ کریں نمبر (6460) اور (8500)۔
وأما الشطر الثاني، فلم نقف عليه عند غير المصنّف.
📌 اہم نکتہ: جہاں تک دوسرے حصے کا تعلق ہے، تو اسے ہم نے مصنف (حاکم) کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں پایا۔